إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ، وَقَدْ تَخَضَّبَ بِالدَّمِ مِنْ فِعْلِ أَهْلِ مَكَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ تُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً؟، قَالَ: "نَعَمْ، فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَائِهِ"، فَقَالَ: ادْعُ بِهَا، فَدَعَا بِهَا، فَجَاءَتْ وَقَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ، فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"حَسْبِي حَسْبِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرئیل علیہ السلام، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، آپ اہل مکہ قریش کے ستائے ہوئے، خون سے لت پت، اداس و غمگین بیٹھے ہوئے تھے، جبرئیل علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے پیغمبر! کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں آپ کو (اللہ کی قدرت کی) ایک نشانی دکھاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں دکھلاؤ“، چنانچہ جبرئیل علیہ السلام نے ایک درخت کی طرف دیکھا جو ان کے پیچھے تھا اور کہا اسے بلائیے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس درخت کو بلایا پس وہ آیا اور آپ کے سامنے کھڑا ہو گیا، جبریل علیہ السلام نے کہا: اسے حکم دیجئے کہ واپس چلا جائے، چنانچہ وہ لوٹ گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بس بس“ (یعنی یہ نشانی میرے لئے کافی ہے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 23]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 23] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کو [امام أحمد 113/3] ، [ابن ابي شيبة 11781] ، [ابن ماجه 4028] ، [وابويعلي 3685] نے روایت کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 23)
اس حدیث سے ثابت ہوا:
❀ نبی ہونے کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اذیتیں برداشت کرنا، صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا۔
❀ جبریل علیہ السلام کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آنا اور پیغام رسانی کا کام سرانجام دینا۔
❀ درخت کا چل کر آنا بہت بڑا معجزہ ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سچے نبی ہونے کی واضح دلیل ہے۔
الحكم: إسناده صحيح