الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، رَجُلٍ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی مثلِ سابق مروی ہے۔ حدیث کا ترجمہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2342]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة وأبو أسامة هو: حماد بن أسامة وأخرجه النسائي، [مكتبه الشامله نمبر: 2351] »
اس حدیث کی تخریج اوپر گذر چکی ہے۔ اس کی سند میں ابواسامہ کا نام: حماد بن اسامہ ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2340 سے 2342)
کھجور کے درخت کا گوند جو چربی کی طرح رنگ میں سفید اور ذائقہ دار و مزہ میں گری کی طرح، کھجور کے تنے کے وسط میں پایا جاتا ہے اور کھایا جاتا ہے، اس کو «كثر» کہتے ہیں۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه جهالة وأبو أسامة هو: حماد بن أسامة وأخرجه النسائي