بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2153 — بچا ہوا مشروب کس کو دینا چاہیے
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان بچا ہوا مشروب کس کو دینا چاہیے حدیث 2153
حدیث نمبر: 2153 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيُّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ رَجُلٌ أَعْرَابِيٌّ، فَأَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ فَضْلَهُ، ثُمَّ قَالَ: "الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دودھ پیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بائیں جانب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی آدمی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بچا ہوا دودھ اس دیہاتی کو دیا، پھر فرمایا: پہلے دائیں طرف سے، پھر اس کے دائیں طرف سے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2153]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2162] »
اس روایت کی سند صحیح ہے اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5619] ، [مسلم 2029] ، [أبوداؤد 3726] ، [ترمذي 1893] ، [ابن ماجه 3425] ، [أبويعلی 3552] ، [ابن حبان 5333] ، [الحميدي 1216]
وضاحت
(تشریح حدیث 2152)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچا ہوا مشروب پینے والا پہلے اپنے دائیں طرف والے کو دے، وہ اپنے دائیں طرف والے کو، مذکورہ بالا حدیث میں اسی کی رعایت کی گئی ہے حالانکہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا درجہ بہت بلند تھا لیکن اسی قاعدے کے مطابق ایک دیہاتی کو ترجیح دی گئی۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2152) باب پر واپس اگلی حدیث (2154) →