بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1995 — اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات افراد کی شرکت کا بیان
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات افراد کی شرکت کا بیان حدیث 1995
حدیث نمبر: 1995 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سات افراد کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ یہ ہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 1999] »
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1318] ، [الموطأ فى الضحايا 9] ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔ دیکھئے: حدیث رقم (1957)
وضاحت
(تشریح احادیث 1993 سے 1995)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں، اونٹ کے لئے بھی یہی حکم ہے، بعض روایات میں ہے کہ اونٹ کی قربانی میں 10 آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
دیکھئے: [ترمذي 1501] ، لیکن اولی اور احوط یہی ہے کہ سات آدمی ہی شریک ہوں۔
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (1994) باب پر واپس اگلی حدیث (1996) →