بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات افراد کی شرکت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں اونٹ اور گائے کی قربانی میں سات افراد کی شرکت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1994 سنن دارمی
يَعْلَى ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَحَرْنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً، الْبَدَنَةُ عَنْ سَبْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اشْتَرِكُوا فِي الْهَدْيِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے صلح حدیبیہ کے دن ستر اونٹ ذبح کئے، ایک اونٹ سات افراد کی طرف سے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہدی (قربانی) میں شراکت کر لو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1994]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1998] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1318] ، [أبوداؤد 2809] ، [ترمذي 904، 1502] ، [ابن ماجه 3132]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1995 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ". قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: تَقُولُ بِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سات افراد کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا آپ یہ ہی کہتے ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 1995]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 1999] »
اس روایت کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1318] ، [الموطأ فى الضحايا 9] ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔ دیکھئے: حدیث رقم (1957)
وضاحت
(تشریح احادیث 1993 سے 1995)
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ گائے کی قربانی میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں، اونٹ کے لئے بھی یہی حکم ہے، بعض روایات میں ہے کہ اونٹ کی قربانی میں 10 آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔
دیکھئے: [ترمذي 1501] ، لیکن اولی اور احوط یہی ہے کہ سات آدمی ہی شریک ہوں۔
الحكم: إسناده قوي