عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش وأبو حصين هو: أبو عثمان بن عاصم، [مكتبه الشامله نمبر: 1820] »
اس روایت کی سند حسن ہے لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2044] ، [أبوداؤد 2466] ، [ابن ماجه 1769] ، [أحمد 336/2، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 1816)
اعتکاف مخلوق سے کٹ کر خالق کی عبادت کے لئے وقتِ محدود تک مسجد میں بیٹھنے کو کہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدنی زندگی میں رمضان المبارک میں ہمیشہ اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد امہات المؤمنین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے، ابن بطال نے کہا: اس حدیث سے یہ نکلا کہ اعتکاف سنّتِ مؤکدہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف اس لئے کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علم ہو گیا تھا کہ رب العالمین سے لقاء کا وقت قریب آگیا ہے۔
اعتکاف دس دن کا سنّت ہے، اس سے کم دنوں کا بھی ہو سکتا ہے۔
الحكم: إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش وأبو حصين هو: أبو عثمان بن عاصم