بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1816 — رمضان کے مہینے میں قیام کی فضیلت کا بیان
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل رمضان کے مہینے میں قیام کی فضیلت کا بیان حدیث 1816
حدیث نمبر: 1816 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، دَاوُدَ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے حسب سابق مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1819] »
تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1813 سے 1816)
پہلی حدیث سے قیام اللیل یا نمازِ تراویح کی فضیلت ثابت ہوئی اور لیلۃ القدر میں جاگنا، قیام و عبادت کرنا ثابت ہوا، اور اس کا اتنا ثواب ہے کہ اگلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، قیام، تراویح، تہجد سب ایک ہی چیز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف تین رات قیام فرمایا اور نمازِ تراویح پڑھی، بقیہ دنوں میں باجماعت تراویح اس لئے نہیں پڑھیں کہ خوف تھا امّت پر فرض نہ کر دی جائیں «(فِدَاهُ أَبِيْ وَأُمِّيْ)» رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی رمضان و غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ تراویح یا تہجد نہیں پڑھی، ایک روایت میں 13 رکعت ہے اس لئے سنّت یہی ہے، 20 رکعت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ مبارک میں پڑھی گئیں اس لئے بیس رکعت بھی پڑھی جا سکتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب رات کی نفلی نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَيٰ مَثْنَيٰ» رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکعات کی تحدید نہیں فرمائی اسی لئے حرمین شریفین میں 20، 36 اور چالیس رکعت تک تراویح پڑھی گئی ہیں لیکن رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عمل 11 یا 13 رکعت تک محدود رہا ہے اس لئے یہ ہی سنّت اور بہتر و افضل ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1815) باب پر واپس اگلی حدیث (1817) →