بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتکاف کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1817 سنن دارمی
عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، أَبِي حَصِينٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کرتے تھے اور جس سال آپ کی وفات ہوئی اس سال بیس دن کا اعتکاف کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش وأبو حصين هو: أبو عثمان بن عاصم، [مكتبه الشامله نمبر: 1820] »
اس روایت کی سند حسن ہے لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2044] ، [أبوداؤد 2466] ، [ابن ماجه 1769] ، [أحمد 336/2، وغيرهم]
وضاحت
(تشریح حدیث 1816)
اعتکاف مخلوق سے کٹ کر خالق کی عبادت کے لئے وقتِ محدود تک مسجد میں بیٹھنے کو کہتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدنی زندگی میں رمضان المبارک میں ہمیشہ اعتکاف کرتے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد امہات المؤمنین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ہے اور اس کی بڑی فضیلت ہے، ابن بطال نے کہا: اس حدیث سے یہ نکلا کہ اعتکاف سنّتِ مؤکدہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف اس لئے کیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علم ہو گیا تھا کہ رب العالمین سے لقاء کا وقت قریب آگیا ہے۔
اعتکاف دس دن کا سنّت ہے، اس سے کم دنوں کا بھی ہو سکتا ہے۔
الحكم: إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش وأبو حصين هو: أبو عثمان بن عاصم
حدیث نمبر: 1818 سنن دارمی
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ ، صَفِّيَةَ بِنْتَ حُيَيٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ صَفِّيَةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا جَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ فِي "اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً ثُمَّ قَامَتْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں جب کہ آپ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، تھوڑی دیر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے باتیں کیں اور کھڑی ہو گئیں۔ (یعنی واپسی کے لئے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1821] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے، اور تفصیل سے صحیحین میں مذکور ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2035] ، [مسلم 2175] ، [أبوداؤد 2470] ، [ابن ماجه 1779] ، [أبويعلی 1721] ، [ابن حبان 3671]
وضاحت
(تشریح حدیث 1817)
اعتکاف میں مسجد سے بلاضرورت باہر نکلنا، فضول باتیں کرنا ممنوع ہوتا ہے، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف کرنے والا اپنی بیوی سے بات کر سکتا ہے اور بیوی ملنے کے لئے مسجد جا سکتی ہے، مذکور بالا حدیث لمبی حدیث کا ایک جزء ہے، تفصیل بخاری شریف وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح