عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِي ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْوَسْقُ: سِتُّونَ صَاعًا، وَالصَّاعُ: مَنَوَانِ وَنِصْفٌ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَرْبَعَةُ أَمْنَاءٍ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْعِرَاقِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم (اناج) میں زکاة واجب نہیں، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاة واجب ہے، اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں زکاة واجب ہے۔“ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، اور صاع اہل حجاز کے نزدیک ڈھائی من کا، اور اہل عراق کے نزدیک چار من کا ایک صاع ہوتا ہے۔ (من عربی زبان میں ایک پیمانے کا نام تھا جو تقریباً ڈھائی کلو کا ہوتا ہے) اس طرح تین سو صاع اناج کا نصاب ہوا، اور ایک صاع موجوده حساب میں دو کلو اور کچھ گرام ہے تقریباً سوا دو کلو۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1673] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1405] ، [مسلم 979] ، [أبوداؤد 1558] ، [ترمذي 626] ، [نسائي 2445] ، [ابن ماجه 1793] ، [أبويعلی 979] ، [ابن حبان 3268] ، [مسند الحميدي 752]
الحكم: إسناده صحيح