بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اناج، چاندی اور سونے کی جس مقدار میں زکاۃ واجب نہیں اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل اناج، چاندی اور سونے کی جس مقدار میں زکاۃ واجب نہیں اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1671 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانَ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِي ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: الْوَسْقُ: سِتُّونَ صَاعًا، وَالصَّاعُ: مَنَوَانِ وَنِصْفٌ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَرْبَعَةُ أَمْنَاءٍ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْعِرَاقِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (اناج) میں زکاة واجب نہیں، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاة واجب ہے، اور نہ پانچ سے کم اونٹوں میں زکاة واجب ہے۔ ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے، اور صاع اہل حجاز کے نزدیک ڈھائی من کا، اور اہل عراق کے نزدیک چار من کا ایک صاع ہوتا ہے۔ (من عربی زبان میں ایک پیمانے کا نام تھا جو تقریباً ڈھائی کلو کا ہوتا ہے) اس طرح تین سو صاع اناج کا نصاب ہوا، اور ایک صاع موجوده حساب میں دو کلو اور کچھ گرام ہے تقریباً سوا دو کلو۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1671]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1673] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1405] ، [مسلم 979] ، [أبوداؤد 1558] ، [ترمذي 626] ، [نسائي 2445] ، [ابن ماجه 1793] ، [أبويعلی 979] ، [ابن حبان 3268] ، [مسند الحميدي 752]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1672 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ مِنْ حَبٍّ وَلَا تَمْرٍ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا، رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم دانے (غلے) اور کھجور میں زکاة نہیں، اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاة ہے، اور نہ پانچ سے کم اونٹ میں زکاة واجب ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1672]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1674] »
تخریج اوپرگذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1673 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ ، الزُّهْرِيُّ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ، وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ:"إِنَّ فِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنْ الْوَرِقِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ فَمَا زَادَ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو شرحبیل بن عبدکلال، حارث بن عبدکلال، اور نعیم بن عبدکلال کے لئے لکھ کر دیا کہ چاندی کے پانچ اوقیہ میں پانچ درہم زکاة کے واجب ہیں، اس سے زیادہ چاندی ہو تو ہر چالیس درہم میں ایک درہم زکاة کے زیادہ کرنے ہوں گے اور پانچ اوقیہ سے کم میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1673]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1675] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے، اور تخریج (1671) میں گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1670 سے 1673)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں، اسی طرح پانچ سے کم اونٹ میں بھی زکاة واجب نہیں اور نہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاة ہے، یعنی چاندی کے دو سو درہم (52.50 تولہ) سے کم میں زکاۃ نہیں ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف