قَبِيصَةُ ، سُفْيَانُ ، أَبِي حَصِينٍ ، يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهِ عَنْهَا، قَالَتْ:"فِي كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھی ہے، اور اخیر میں آپ کا وتر صبح کے قریب پہنچا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1626]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1628] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 996] ، [مسلم 742] ، [أبوداؤد 1435] ، [ترمذي 456] ، [نسائي 1680] ، [ابن ماجه 1185] ، [أبويعلی 4370] ، [ابن حبان 2443] ، [مسند الحميدي 188]
وضاحت
(تشریح حدیث 1625)
دوسری روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وتر شروع رات، وسط اور آخر شب میں بھی پڑھی ہے، مذکورہ بالا روایت سے معلوم ہوا کہ وتر کا وقت عشاء کے بعد سے طلوعِ فجر تک کا ہے، رسولِ رحمت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امّت کی آسانی کے لئے عشاء کے بعد رات میں جب بھی ممکن ہو وتر ادا کرنا جائز قرار دیا۔
الحكم: إسناده صحيح