سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، مِخْوَلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي رَافِعٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مِخْوَلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا سَاجِدٌ، وَقَدْ عَقَصْتُ شَعْرِي، أَوْ قَالَ: عَقَدْتُ"فَأَطْلَقَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابورافع (مولی رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جوڑا باندھے ہوئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھول دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1420] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن اس لفظ سے صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، دوسری کتب میں دوسرے سیاق سے ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 646] ، [ترمذي 384] ، [ابن حبان 2279] ، [موارد الظمآن 474]
وضاحت
(تشریح حدیث 1417)
«عقص عقصا» بالوں کے گوندھنے، چوٹی بنانے یا جوڑا بنانے کو کہتے ہیں، اس حدیث کے پیشِ نظر علماء نے مردوں کے لئے جوڑا بنا کر نماز پڑھنے کو ناپسند کیا اور مکروہ جانا ہے کیونکہ اس میں عورتوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح