بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1417 — نماز میں سدل کی ممانعت کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز میں سدل کی ممانعت کا بیان حدیث 1417
حدیث نمبر: 1417 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عِسْلٍ ، عَطَاءٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عِسْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ "كَرِهَ السَّدْلَ"، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ناپسند کیا سدل کو اور ناپسندیدگی کو رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في اسناده علتان: سعيد بن عامر متأخر السماع من سعيد بن أبي عروبة وضعف عسل بن سفيان، [مكتبه الشامله نمبر: 1419] »
اس روایت کی سند میں عسل بن سفیان ضعیف ہیں، لیکن اس حدیث کے شواہد کے پیشِ نظر حسن کے درجے کو پہنچ جاتی ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 643] ، [ترمذي 376] ، [ابن حبان 2289] ، [موارد الظمآن 478، 479]
وضاحت
(تشریح حدیث 1416)
امام خطابی رحمہ اللہ نے کہا: سدل یہ ہے کہ غرور و تکبر سے کپڑے کو چھوڑ دے، وہ زمین تک لٹکتا رہے۔
نہایہ میں ہے: سدل یہ ہے کہ کپڑا اوپر سے اوڑھ کر لٹکا لے جس طرح یہودی کرتے ہیں۔
بعض علماء نے کہا: سر پر چادر اوڑھ کر اس کو لٹکنے دے بکل نہ مارے۔
بعض نے کہا: جبہ میں سدل یہ ہے کہ اسے اوڑھ لے اور ہاتھ آستینوں کے اندر نہ کرے (علامہ وحید الزماں)۔
بعض احادیث میں سدل کی صریح ممانعت ہے جیسا کہ تخریج سے معلوم ہو سکتا ہے۔
الحكم: في اسناده علتان: سعيد بن عامر متأخر السماع من سعيد بن أبي عروبة وضعف عسل بن سفيان
← پچھلی حدیث (1416) باب پر واپس اگلی حدیث (1418) →