بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل جوڑا باندھ کر نماز پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1418 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، مِخْوَلٍ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي رَافِعٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مِخْوَلٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا سَاجِدٌ، وَقَدْ عَقَصْتُ شَعْرِي، أَوْ قَالَ: عَقَدْتُ"فَأَطْلَقَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابورافع (مولی رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے جوڑا باندھے ہوئے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھول دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1418]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1420] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن اس لفظ سے صرف امام دارمی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے، دوسری کتب میں دوسرے سیاق سے ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 646] ، [ترمذي 384] ، [ابن حبان 2279] ، [موارد الظمآن 474]
وضاحت
(تشریح حدیث 1417)
«عقص عقصا» بالوں کے گوندھنے، چوٹی بنانے یا جوڑا بنانے کو کہتے ہیں، اس حدیث کے پیشِ نظر علماء نے مردوں کے لئے جوڑا بنا کر نماز پڑھنے کو ناپسند کیا اور مکروہ جانا ہے کیونکہ اس میں عورتوں سے مشابہت پائی جاتی ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1419 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، بُكَيْرٍ ، كُرَيْبًا ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بَكْرٌ هُوَ ابْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَاءَهُ، فَجَعَلَ يَحُلُّهُ، وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا كَمَثَلِ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
کریب ابن عباس کے آزاد کردہ غلام نے کہا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حارث کو پیچھے کی طرف بالوں کا جوڑا بنائے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا، چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور اس جوڑے کو کھولنے لگے، ایک اور شخص نے بھی ان کی تائید کی پھر وہ (عبدالله بن حارث) جب نماز سے فارغ ہوئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور عرض کیا: کیا بات ہے آپ نے ایسا میرے سر کے ساتھ کیوں کیا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: (جو شخص جوڑا باندھ کر نماز پڑھے) اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کسی کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں اور وہ نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1419]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح كاتب الليث ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1421] »
اس روایت کی سند عبدالله بن صالح کاتب اللیث کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 492] ، [أبوداؤد 647] ، [نسائي 1115] ، [ابن حبان 2280]
الحكم: إسناده ضعيف من أجل عبد الله بن صالح كاتب الليث ولكن الحديث صحيح