بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 127 — فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان حدیث 127
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَطَاءٍ ، سَعِيدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ،، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "مَا رَأَيْتُ قَوْمًا كَانُوا خَيْرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا سَأَلُوهُ إِلَّا عَنْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ مَسْأَلَةً حَتَّى قُبِضَ، كُلُّهُنَّ، فِي الْقُرْآنِ مِنْهُنَّ، يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ سورة البقرة آية 217، وَ وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، قَالَ: مَا كَانُوا يَسْأَلُونَ إِلَّا عَمَّا يَنْفَعُهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ سے بہتر لوگ نہیں دیکھے، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری زندگی میں صرف ۱۳ مسئلے آپ سے پوچھے تھے، جو سب کے سب قرآن پاک میں مذکور ہیں، جیسے: « ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ ...﴾ » (البقرة: ۲۱۷/۲) لوگ آپ سے شہر حرام کے بارے میں پوچھتے ہیں، « ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ...﴾ » (البقرة: ۲۲۲/۲) لوگ آپ سے حیض کے مسائل دریافت کرتے ہیں۔ نیز انہوں نے بتایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف وہی سوال اور مسئلہ پوچھتے تھے جو انہیں سودمند ہوتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 127]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 127] »
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ اثر ضعیف ہے۔ 13 مسائل کی تحدید بھی صحيح نہیں معلوم ہوتی «(والله أعلم)» اس کو ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 1809] اور ابن بطہ نے [الإبانة 396] میں اسی سند سے ذکر کیا ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف
← پچھلی حدیث (126) باب پر واپس اگلی حدیث (128) →