بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جھولے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: آداب و اخلاق کا بیان باب: جھولے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 4933 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَنِي وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ أَوْ سِتٍّ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ أَتَيْنَ نِسْوَةٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ فَذَهَبْنَ بِي وَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، فَأُتِيَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ فَوَقَفَتْ بِي عَلَى الْباب، فَقُلْتُ: هِيهْ هِيهْ" , قَالَ أَبُو دَاوُد: أَيْ تَنَفَّسَتْ فَأُدْخِلْتُ بَيْتًا فَإِذَا فِيهِ نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ , دَخَلَ حَدِيثُ أَحَدِهِمَا فِي الْآخَرِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، میں سات سال کی تھی، پھر جب ہم مدینہ آئے، تو کچھ عورتیں آئیں، بشر کی روایت میں ہے: پھر میرے پاس (میری والدہ) ام رومان آئیں، اس وقت میں ایک جھولہ پر تھی، وہ مجھے لے گئیں اور مجھے سنوارا سجایا پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے گئیں، تو آپ نے میرے ساتھ رات گزاری، اس وقت میں نو سال کی تھی وہ مجھے لے کر دروازے پر کھڑی ہوئیں، میں نے کہا: «هيه هيه» ۔ (ابوداؤد کہتے ہیں: «هيه هيه» کا مطلب ہے کہ انہوں نے زور زور سے سانس کھینچی)، عائشہ کہتی ہیں: پھر میں ایک کمرے میں لائی گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں (پہلے سے بیٹھی ہوئی) ہیں، انہوں نے «على الخير والبركة» کہہ کر مجھے دعا دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4933]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16855، 16881) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (3894) صحيح مسلم (1422)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4934 سنن ابو داؤد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ مِثْلَهُ، قَالَ: عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابواسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے اس میں ہے (ان عورتوں نے کہا) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا (میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16855) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (4933)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4935 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَمَّادٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ، فَذَهَبْنَ بِي فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ آئے، تو میرے پاس کچھ عورتیں آئیں، اس وقت میں جھولے پر کھیل رہی تھی، اور میرے بال چھوٹے چھوٹے تھے، وہ مجھے لے گئیں، مجھے بنایا سنوارا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، آپ نے میرے ساتھ رات گزاری کی، اس وقت میں نو سال کی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4935]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16881) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (4933)
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 4936 سنن ابو داؤد
بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِإِسْنَادِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: وَأَنَا عَلَى الْأُرْجُوحَةِ وَمَعِي صَوَاحِبَاتِي فَأَدْخَلْنَنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہشام بن عروہ سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: میں جھولے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، وہ مجھے ایک کوٹھری میں لے گئیں تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں ہیں انہوں نے مجھے خیر و برکت کی دعائیں دیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16855) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (4933)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4937 سنن ابو داؤد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى أُرْجُوحَةٍ بَيْنَ عِذْقَيْنِ، فَجَاءَتْنِي أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي وَلِي جُمَيْمَةٌ وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے اور بنی حارث بن خزرج میں اترے، قسم اللہ کی میں دو شاخوں کے درمیان ڈلے ہوئے جھولے پر جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں آئیں اور مجھے جھولے سے اتارا، میرے سر پر چھوٹے چھوٹے بال تھے اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4937]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 17682)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/210) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح