بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ بِإِسْنَادِهِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، قَالَتْ: وَأَنَا عَلَى الْأُرْجُوحَةِ وَمَعِي صَوَاحِبَاتِي فَأَدْخَلْنَنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہشام بن عروہ سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: میں جھولے پر تھی اور میرے ساتھ میری سہیلیاں بھی تھیں، وہ مجھے ایک کوٹھری میں لے گئیں تو کیا دیکھتی ہوں کہ وہاں انصار کی کچھ عورتیں ہیں انہوں نے مجھے خیر و برکت کی دعائیں دیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4936]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16855) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (4933)
الحكم: صحيح