إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو أُسَامَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ مِثْلَهُ، قَالَ: عَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَسَلَّمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابواسامہ سے اسی کے ہم مثل مروی ہے اس میں ہے (ان عورتوں نے کہا) اچھا نصیبہ ہے پھر میری ماں نے مجھے ان عورتوں کے سپرد کر دیا، انہوں نے میرا سر دھویا اور مجھے سجایا سنوارا (میں جان نہیں پا رہی تھی کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے) کہ چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہی آ کر مجھے حیرانی میں ڈال دیا تو ان عورتوں نے مجھے آپ کے حوالہ کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 4934]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (2121)، (تحفة الأشراف: 16855) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
انظر الحديث السابق (4933)
الحكم: صحيح