بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قاتل سے قصاص لیے جانے کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: دیتوں کا بیان باب: قاتل سے قصاص لیے جانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 4527 سنن ابو داؤد
مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، والطلاق 24 (تعلیقاً)، الدیات 4 (6876)، 5 (6877)، 12 (6884)، صحیح مسلم/القسامة 3 (1672)، سنن الترمذی/الدیات 6 (1394)، سنن النسائی/المحاربة 7 (4049)، القسامة 8 (4746)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2665)، (تحفة الأشراف: 1391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163، 183، 203، 267)، سنن الدارمی/الدیات 4 (2400) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2746) صحيح مسلم (1672)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4528 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح مسلم/ الحدود 3 (1672)، سنن النسائی/ المحاربة 7 (4049)، (تحفة الأشراف: 950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1672)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 4529 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، شُعْبَةَ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَقَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بِرَأْسِهَا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا فلاں نے کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4527)، (تحفة الأشراف: 1631) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6877) صحيح مسلم (1672)
الحكم: صحيح