عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، شُعْبَةَ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَقَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بِرَأْسِهَا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: ”تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟“ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر پوچھا: ”تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟“ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر پوچھا: ”کیا فلاں نے کیا ہے؟“ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: (4527)، (تحفة الأشراف: 1631) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (6877) صحيح مسلم (1672)
الحكم: صحيح