مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الدِّيَاتِ/حدیث: 4527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، والطلاق 24 (تعلیقاً)، الدیات 4 (6876)، 5 (6877)، 12 (6884)، صحیح مسلم/القسامة 3 (1672)، سنن الترمذی/الدیات 6 (1394)، سنن النسائی/المحاربة 7 (4049)، القسامة 8 (4746)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2665)، (تحفة الأشراف: 1391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163، 183، 203، 267)، سنن الدارمی/الدیات 4 (2400) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (2746) صحيح مسلم (1672)
الحكم: صحيح