أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ ، مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ۱؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الفتن 22 (4020)، (تحفة الأشراف: 12162)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/342) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: طلاء: انگور سے بنا ہوا ایک قسم کا شیرہ ہے۔
۲؎: جیسے اس زمانے میں تاڑی اور بھانگ استعمال کرنے والے اسے شراب نہیں سمجھتے حالانکہ ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور وہ حرام ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
مشكوة المصابيح (4292)
وللحديث شواھد عند ابن ماجه (3385 وسنده حسن) وغيره
الحكم: صحيح