شَيْخٌ ، أَبُو مَنْصُورٍ الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ
حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ وَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَنْصُورٍ الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ وَسُئِلَ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ عَنِ الدَّاذِيِّ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: الدَّاذِيُّ شَرَابُ الْفَاسِقِينَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حارث بن منصور کہتے ہیں میں نے سفیان ثوری سے سنا ان سے «داذی» ۱؎ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ نے فرمایا ہے: ”میری امت کے بعض لوگ شراب پئیں گے لیکن اسے دوسرے نام سے موسوم کریں گے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سفیان ثوری کا کہنا ہے: «داذی» فاسقوں کی شراب ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَشْرِبَةِ/حدیث: 3689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ أبو داود (صحیح) (یہ روایت نہیں بلکہ پچھلی حدیث کی طرف اشارہ ہے)»
وضاحت
۱؎: «داذی» ایک قسم کا دانہ جسے نبیذ میں ڈالتے ہیں تو اس میں تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قول سفيان الثوري سنده ضعيف إليه لأن أبا داود لم يذكر سنده
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 131
قَالَ أَبُو دَاوُد
الحكم: صحيح