بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: غلام اور لونڈی کی خریداری میں خریدار کے اختیار کا بیان۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: اجارے کے احکام و مسائل باب: غلام اور لونڈی کی خریداری میں خریدار کے اختیار کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 3506 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"عُهْدَةُ الرَّقِيقِ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (بایع پر) غلام و لونڈی کے عیب کی جواب دہی کی مدت تین دن ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/التجارات 44 (2245)، (تحفة الأشراف: 9917)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/143، 150، 152)، سنن الدارمی/البیوع 18 (2594) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (حسن بصری کا سماع عقبہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
ابن ماجه (2245)
قال المنذري : ’’ ھذا منقطع فإن الحسن لم يصح له سماع من عقبة ‘‘ (انظر عون المعبود 304/3)
وللحديث طريق آخر ضعيف عند ابن ماجه (2244)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 3507 سنن ابو داؤد
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، زَادَ إِنْ وَجَدَ دَاءً فِي الثَّلَاثِ لَيَالِي رُدَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ وَإِنْ وَجَدَ دَاءً بَعْدَ الثَّلَاثِ كُلِّفَ الْبَيِّنَةَ، أَنَّهُ اشْتَرَاهُ وَبِهِ هَذَا الدَّاءُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا التَّفْسِيرُ مِنْ كَلَامِ قَتَادَةَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اس سند سے بھی قتادہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر تین دن کے اندر ہی اس میں کوئی عیب پائے تو وہ اسے بغیر کسی گواہ کے لوٹا دے گا، اور اگر تین دن بعد اس میں کوئی عیب نکلے تو اس سے اس بات پر بینہ (گواہ) طلب کیا جائے گا، کہ جب اس نے اسے خریدا تھا تو اس میں یہ بیماری اور یہ عیب موجود تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ تفسیر قتادہ کے کلام کا ایک حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَابُ الْإِجَارَةِ/حدیث: 3507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 9917) (ضعیف) وسندہ إلی قتادة صحیح» ‏‏‏‏ (حسن بصری کا سماع عقبہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف وسنده إلى قتادة صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
ضعيف
انظر الحديث السابق (3506) و إن كان ھذا من قول قتادة فسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 124
الحكم: ضعيف وسنده إلى قتادة صحيح