بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 309 سنن ابو داؤد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عِكْرِمَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" كَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تُسْتَحَاضُ فَكَانَ زَوْجُهَا يَغْشَاهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: مُعَلَّى ثِقَةٌ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَا يَرْوِي عَنْهُ، لِأَنَّهُ كَانَ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا اور ان کے شوہر ان سے صحبت کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ معلی ثقہ ہیں اور احمد بن حنبل ان سے اس لیے روایت نہیں کرتے تھے کہ وہ قیاس و رائے میں دخل رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏أنظر حدیث رقم (305)، (تحفة الأشراف: 15821) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف لإرساله
وانظر (ح 305)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 310 سنن ابو داؤد
أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ ، عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَاصِمٍ ، عِكْرِمَةَ ، حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ،" أَنَّهَا كَانَتْ مُسْتَحَاضَةً وَكَانَ زَوْجُهَا يُجَامِعُهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ مستحاضہ ہوتی تھیں اور ان کے شوہر ان سے جماع کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏انظر حدیث رقم (305)، (تحفة الأشراف: 15821) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر (ح 305)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
الحكم: حسن