إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عِكْرِمَةَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ:" كَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تُسْتَحَاضُ فَكَانَ زَوْجُهَا يَغْشَاهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: مُعَلَّى ثِقَةٌ، وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَا يَرْوِي عَنْهُ، لِأَنَّهُ كَانَ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عکرمہ کہتے ہیں کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا اور ان کے شوہر ان سے صحبت کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ یحییٰ بن معین نے کہا ہے کہ معلی ثقہ ہیں اور احمد بن حنبل ان سے اس لیے روایت نہیں کرتے تھے کہ وہ قیاس و رائے میں دخل رکھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«أنظر حدیث رقم (305)، (تحفة الأشراف: 15821) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف لإرساله
وانظر (ح 305)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 26
الحكم: صحيح