بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حائضہ عورت سے جماع کے سوا آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔
Sunan Abi Dawud
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طہارت کے مسائل باب: حائضہ عورت سے جماع کے سوا آدمی سب کچھ کر سکتا ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 267 سنن ابو داؤد
يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، حَبِيبٍ ، نُدْبَةَ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ، عَنْ نُدْبَةَ مَوْلَاةِ مَيْمُونَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ الْمَرْأَةَ مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، إِذَا كَانَ عَلَيْهَا إِزَارٌ إِلَى أَنْصَافِ الْفَخِذَيْنِ أَوِ الرُّكْبَتَيْنِ تَحْتَجِزُ بِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں مباشرت (اختلاط و مساس) کرتے تھے جب ان کے اوپر نصف رانوں تک یا دونوں گھٹنوں تک تہبند ہوتا جس سے وہ آڑ کئے ہوتیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 267]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 180 (288)، والحیض 13 (376)، (تحفة الأشراف: 18085)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 5 (298)، صحیح مسلم/الحیض 1 (294)، مسند احمد (6/335)، سنن الدارمی/الطھارة 107 (1097) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (288)
ند بة مولاة ميمونة: مجھولة،لم يوثقھا غير ابن حبان
وأحاديث البخاري (303) و مسلم (294،295) تغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 23
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 268 سنن ابو داؤد
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، شُعْبَةُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ إِحْدَانَا إِذَا كَانَتْ حَائِضًا، أَنْ تَتَّزِرَ، ثُمَّ يُضَاجِعُهَا زَوْجُهَا"، وَقَالَ مَرَّةً: يُبَاشِرُهَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے کسی کو جب وہ حائضہ ہوتی ازار (تہبند) باندھنے کا حکم دیتے، پھر اس کا شوہر ۱؎ اس کے ساتھ سوتا، ایک بار راوی نے «يضاجعها» کے بجائے «يباشرها» کے الفاظ نقل کئے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 5 (299)، صحیح مسلم/الحیض 1 (293)، سنن الترمذی/الطھارة 99 (132)، سنن النسائی/الطھارة 180 (287)، والحیض 12 (373)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 121 (636)، (تحفة الأشراف: 15982) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: «إحدانا» کے لفظ سے مراد یا تو ازواج مطہرات ہیں، ایسی صورت میں «زوجها» سے مراد خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں گے، یا «إحدانا» سے عام مسلمان عورتیں مراد ہیں، تو اس صورت میں «زوجها» سے اس مسلمان عورت کا شوہر مراد ہو گا، مؤلف کے سوا اور کسی کے یہاں یہ لفظ نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (300، 2030) صحيح مسلم (293)
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 269 سنن ابو داؤد
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ ، خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، سَمِعْتُ خِلَاسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ:" كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ، فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَيْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ، وَإِنْ أَصَابَ تَعْنِي ثَوْبَهُ مِنْهُ شَيْءٌ، غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ، ثُمَّ صَلَّى فِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دونوں رات میں ایک کپڑے میں سوتے اور میں پورے طور سے حائضہ ہوتی، اگر میرے حیض کا کچھ خون آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے بدن) کو لگ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف اسی مقام کو دھو ڈالتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے، اور اگر اس میں سے کچھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑے کو لگ جاتا، تو آپ صرف اسی جگہ کو دھو لیتے، اس سے زیادہ نہیں دھوتے، پھر اسی میں نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 269]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن النسائی/الطھارة 179 (285)، والحیض 11 (372)، (تحفة الأشراف: 16067)، مسند احمد (6/44، سنن الدارمی/الطھارة 104 (1053)، ویأتی عند المؤلف فی النکاح برقم (2166) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 270 سنن ابو داؤد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ ، عَمَّة ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ، قَال: إِنّ عَمَّة لَهُ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، قَالَتْ:" أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ لَيْلا وَأَنَا حَائِضٌ، فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ، فَقَالَ: ادْنِي مِنِّي، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: وَإِنْ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ، فَكَشَفْتُ فَخِذَيَّ فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِي وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِئَ وَنَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمارہ بن غراب کہتے ہیں: ان کی پھوپھی نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم میں سے ایک عورت کو حیض آتا ہے، اور اس کے اور اس کے شوہر کے پاس صرف ایک ہی بچھونا ہے (ایسی صورت میں وہ حائضہ عورت کیا کرے؟)، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عمل بتاتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں چلے گئے (ابوداؤد کہتے ہیں: مسجد سے مراد گھر کے اندر نماز کی جگہ مصلی ہے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے مجھے نیند آ گئی، ادھر آپ کو سردی نے ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میرے قریب آ جاؤ، تو میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی ران کھولو، میں نے اپنی رانیں کھول دیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھ دیا، میں اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھک گئی، یہاں تک کہ آپ کو گرمی پہنچ گئی، اور سو گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17993) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے تین رواة ابن غانم، عبدالرحمن افریقی اور عمارہ ضعیف ہیں اور عمارہ کی پھوپھی مبہم ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الإفريقي: ضعيف (تقدم: 62)
وعمارة بن غراب: مجهول (تقريب: 4857) وعمته: لم أعرفھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 23
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 271 سنن ابو داؤد
سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، أَبِي الْيَمَانِ ، أُمِّ ذَرَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، عَنْ أُمِّ ذَرَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ:" كُنْتُ إِذَا حِضْتُ نَزَلْتُ عَنِ الْمِثَالِ عَلَى الْحَصِيرِ، فَلَمْ نَقْرُبْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ نَدْنُ مِنْهُ حَتَّى نَطْهُرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں جب حائضہ ہوتی تو بچھونے سے چٹائی پر چلی آتی، اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قریب نہ ہوتے، جب تک کہ ہم پاک نہ ہو جاتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 271]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 17980) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے اندر أم ذرہ راویہ لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو اليمان الرحال: مستور (تقريب: 8456) أي: مجهول الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 23
الحكم: ضعيف
حدیث نمبر: 272 سنن ابو داؤد
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، عِكْرِمَةَ ، بَعْضِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ مِنَ الْحَائِضِ شَيْئًا، أَلْقَى عَلَى فَرْجِهَا ثَوْبًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عکرمہ بعض ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حائضہ سے جب کچھ کرنا چاہتے تو ان کی شرمگاہ پر ایک کپڑا ڈال دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 272]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد به أبوداود، (تحفة الأشراف: 18379) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 273 سنن ابو داؤد
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، الشَّيْبَانِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا فِي فَوْحِ حَيْضَتِنَا أَنْ نَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنَا، وَأَيُّكُمْ يَمْلِكُ إِرْبَهُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْلِكُ إِرْبَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے حیض کی شدت میں ہمیں ازار (تہبند) باندھنے کا حکم فرماتے تھے پھر ہم سے مباشرت کرتے تھے، اور تم میں سے کون اپنی خواہش پر قابو پا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی خواہش پر قابو تھا؟ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض 6 (302)، صحیح مسلم/الحیض 1 (293)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 121 (635)، (تحفة الأشراف: 16008)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/33، 143، 235) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو مرد اپنے نفس پر قابو نہ رکھ پاتا ہو اس کا حائضہ سے مباشرت کرنا بہتر نہیں، کیوں کہ خدشہ ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو نہ رکھ سکے اور جماع کر بیٹھے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (302) صحيح مسلم (293)
الحكم: صحيح