عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ ، عَمَّة ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غُرَابٍ، قَال: إِنّ عَمَّة لَهُ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِحْدَانَا تَحِيضُ وَلَيْسَ لَهَا وَلِزَوْجِهَا إِلَّا فِرَاشٌ وَاحِدٌ، قَالَتْ:" أُخْبِرُكِ بِمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ لَيْلا وَأَنَا حَائِضٌ، فَمَضَى إِلَى مَسْجِدِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: تَعْنِي مَسْجِدَ بَيْتِهِ، فَلَمْ يَنْصَرِفْ حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي وَأَوْجَعَهُ الْبَرْدُ، فَقَالَ: ادْنِي مِنِّي، فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، فَقَالَ: وَإِنْ، اكْشِفِي عَنْ فَخِذَيْكِ، فَكَشَفْتُ فَخِذَيَّ فَوَضَعَ خَدَّهُ وَصَدْرَهُ عَلَى فَخِذِي وَحَنَيْتُ عَلَيْهِ حَتَّى دَفِئَ وَنَامَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمارہ بن غراب کہتے ہیں: ان کی پھوپھی نے ان سے بیان کیا کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ہم میں سے ایک عورت کو حیض آتا ہے، اور اس کے اور اس کے شوہر کے پاس صرف ایک ہی بچھونا ہے (ایسی صورت میں وہ حائضہ عورت کیا کرے؟)، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عمل بتاتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور اپنی نماز پڑھنے کی جگہ میں چلے گئے (ابوداؤد کہتے ہیں: مسجد سے مراد گھر کے اندر نماز کی جگہ ”مصلی“ ہے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے مجھے نیند آ گئی، ادھر آپ کو سردی نے ستایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میرے قریب آ جاؤ“، تو میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی ران کھولو“، میں نے اپنی رانیں کھول دیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا رخسار اور سینہ میری ران پر رکھ دیا، میں اوپر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھک گئی، یہاں تک کہ آپ کو گرمی پہنچ گئی، اور سو گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 270]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17993) (ضعیف)» (اس کے تین رواة ابن غانم، عبدالرحمن افریقی اور عمارہ ضعیف ہیں اور عمارہ کی پھوپھی مبہم ہیں)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
الإفريقي: ضعيف (تقدم: 62)
وعمارة بن غراب: مجهول (تقريب: 4857) وعمته: لم أعرفھا
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 23
الحكم: ضعيف