مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ التَّيْمِيِّ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ، فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، أَوْ قَالَ: يُنَادِي، لِيَرْجِعَ قَائِمُكُمْ وَيَنْتَبِهَ نَائِمُكُمْ، وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا". قَالَ مُسَدَّدٌ: وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا، وَمَدَّ يَحْيَى بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے (تہجد پڑھنے) والا تہجد پڑھنا بند کر دے، اور سونے والا جاگ جائے، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے“۔ مسدد کہتے ہیں: راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے، یہاں تک اس طرح ہو جائے (یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 13 (621)، الطلاق 24 (5298)، أخبارالآحاد 1 (7247)، صحیح مسلم/الصوم 8 (1093)، سنن النسائی/الأذان 11 (642)، سنن ابن ماجہ/الصوم 23 (1696) (تحفة الأشراف: 9375)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/386، 392، 435) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري (621) صحيح مسلم (1093)
الحكم: صحيح