مُسَدَّدٌ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ ، أَبِيهِ ، سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ، وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَمْنَعَنَّ مِنْ سُحُورِكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا بَيَاضُ الْأُفْقِ الَّذِي هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی (صبح کاذب) ہی باز رکھے، جو اس طرح (لمبائی میں) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصیام 8 (1094)، سنن الترمذی/الصوم 15 (706)، (تحفة الأشراف: 4624)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصیام 18 (2173)، مسند احمد (5/7، 9، 13، 18) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم (1094)
الحكم: صحيح