بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2211 — باب: آدمی اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکارے تو کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل باب: آدمی اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکارے تو کیسا ہے؟ حدیث 2211
حدیث نمبر: 2211 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، أَبُو نُعَيْمٍ ، عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي تَمِيمَةَ ، رَجُلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخَيَّةُ، فَنَهَاهُ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو تمیمہ سے روایت ہے، وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2211]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15599، 18846) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں سخت اضطراب ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کر دیا ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
خالد سمعه من رجل عن أبي تميمة به والرجل: مجهول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2210) باب پر واپس اگلی حدیث (2212) →