بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابو داؤد

حدیث نمبر: 2210 — باب: آدمی اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکارے تو کیسا ہے؟
کتب سنن ابو داؤد کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل باب: آدمی اپنی بیوی کو بہن کہہ کر پکارے تو کیسا ہے؟ حدیث 2210
حدیث نمبر: 2210 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَمَّادٌ ، أَبُو كَامِلٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ الْمَعْنَى ، خَالِدٍ ، أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، وَخَالِدٌ الطَّحَّانُ الْمَعْنَى، كُلُّهُمْ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِامْرَأَتِهِ: يَا أُخَيَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُخْتُكَ هِيَ"، فَكَرِهَ ذَلِكَ وَنَهَى عَنْهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ تیری بہن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2210]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15599، 18846) (اس کے راوی ابوتمیمة تابعی ہیں اس لئے مرسل ہے) (ضعیف)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اگرچہ اس کے کہنے سے وہ اس کی بہن نہیں ہو جائے گی مگر نامناسب بات زبان سے نکالنی مناسب نہیں، گو وہ اس کی دینی بہن ہو یا رشتہ میں بھی بہن کے مرتبہ کی ہو جیسے چچا یا پھوپھی یا خالہ کی بیٹی۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل : أبو تميمة الھجيمي طريف بن مجالد : تابعي من الطبقة الثالثة
انظر التقريب(3014)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 83
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (2209) باب پر واپس اگلی حدیث (2211) →