بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم قران مجيد كي تفسير كا بيان باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 3015 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا، وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ، فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، وَقَالُوا: حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کئی احادیث ذکر کیں، ان میں سے (ایک حدیث) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا گیا: (شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ اور کہو: حطۃ (ہمیں بخش دے) ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، انہوں نے (اس کے) الٹ کیا، چنانچہ وہ اپنے چوتڑوں کے بل گھسیٹتے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے اور انہوں نے (حطہ کے بجائے) ’ہمیں بالی میں دانہ چاہیے‘ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7523]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7523 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا، وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ، فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ، وَقَالُوا: حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی، کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کیں، پھر انہوں نے کئی احادیث ذکر کیں، ان میں سے (ایک حدیث) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل سے کہا گیا: (شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ اور کہو: حطۃ (ہمیں بخش دے) ہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے، انہوں نے (اس کے) الٹ کیا، چنانچہ وہ اپنے چوتڑوں کے بل گھسیٹتے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے اور انہوں نے (حطہ کے بجائے) ’ہمیں بالی میں دانہ چاہیے‘ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7523]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3016 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کی وفات تک لگاتار وحی نازل فرمائی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی اس دن سب سے زیادہ وحی آئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7524]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7524 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب سے روایت ہے، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کی وفات تک لگاتار وحی نازل فرمائی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی اس دن سب سے زیادہ وحی آئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7524]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3017 صحیح مسلم
أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ، قَالُوا لِعُمَرَ " إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ، أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي سورة المائدة آية 3 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ (مسلمان) ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں، وہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی تھی اور جس وقت وہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں تھے۔ یہ آیت عرفہ (کے مقام) پر نازل ہوئی تھی اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدان عرفات میں تھے۔ سفیان نے کہا مجھے شک ہے کہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا) جمعہ کا دن تھا یا نہیں؟ ان کی مراد اس آیت سے تھی: آج میں تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7525]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7525 صحیح مسلم
أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ، قَالُوا لِعُمَرَ " إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ، أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ، قَالَ سُفْيَانُ: أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي سورة المائدة آية 3 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ (مسلمان) ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں، وہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی تھی اور جس وقت وہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں تھے۔ یہ آیت عرفہ (کے مقام) پر نازل ہوئی تھی اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میدان عرفات میں تھے۔ سفیان نے کہا مجھے شک ہے کہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا) جمعہ کا دن تھا یا نہیں؟ ان کی مراد اس آیت سے تھی: آج میں تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7525]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3017 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَبِيهِ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ " لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ : فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ، نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد سے، انہوں نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی، کہا: یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت ہم یہودیوں کی جماعت پر نازل ہوتی: "آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔" ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ کس دن نازل ہوئی ہے تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ دن اور وہ گھڑی جس میں یہ آیت اتری تھی، اور اس کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس جگہ تھے (سب کچھ) جانتا ہوں۔ یہ (آیت) مزدلفہ کی رات (آنے والی تھی، تب) اتری تھی، اور (اس وقت) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7526]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7526 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَبِيهِ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عُمَرُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ " لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ : فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ، وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ، نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد سے، انہوں نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی، کہا: یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت ہم یہودیوں کی جماعت پر نازل ہوتی: "آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔" ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ کس دن نازل ہوئی ہے تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ دن اور وہ گھڑی جس میں یہ آیت اتری تھی، اور اس کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس جگہ تھے (سب کچھ) جانتا ہوں۔ یہ (آیت) مزدلفہ کی رات (آنے والی تھی، تب) اتری تھی، اور (اس وقت) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7526]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3017 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَبُو عُمَيْسٍ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عُمَرُ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، قَالَ: وَأَيُّ آيَةٍ؟، قَالَ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمیس نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی، کہا: یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: امیر المومنین! آپ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے، آپ اسے پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے کہا: "آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ دن بھی جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی وہ جگہ بھی جہاں یہ نازل ہوئی، یہ (آیت) عرفات میں جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7527]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7527 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَبُو عُمَيْسٍ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، عُمَرُ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا، قَالَ: وَأَيُّ آيَةٍ؟، قَالَ: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ، نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمیس نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی، کہا: یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: امیر المومنین! آپ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے، آپ اسے پڑھتے ہیں، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: وہ کون سی آیت ہے؟ اس نے کہا: "آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔" تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ دن بھی جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی وہ جگہ بھی جہاں یہ نازل ہوئی، یہ (آیت) عرفات میں جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7527]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3018 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3، قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي، قَالَ اللَّهُ فِيهَا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ، قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے، جو تمھیں اچھی لگیں دو، دو، تین، تین، چار، چار سے نکاح کر لو" کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: میرے بھانجے! یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے (موروثی) مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی (چچا زاد وغیرہ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کر لے اور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرا اسے دے گا، چنانچہ ان (لوگوں) کو اس بات سے روک دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شادی کریں الا یہ کہ وہ (مہر میں) ان سے انصاف کریں اور مہر میں جو سب سے اونچا طریقہ (رائج) ہے اس کی پابندی کریں اور (اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو) انھیں حکم دیا گیا کہ ان (یتیم لڑکیوں) سے سوا جو عورتیں انھیں اچھی لگیں ان سے شادی کر لیں۔ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (عورتوں کے حوالے سے مزید) دریافت کیا تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: "اور یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہیے: اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جنھیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو۔" (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جس بات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کتاب میں تلاوت کی جاتی ہے، وہ وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو (دوسری) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: "اور تم ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو۔" (کا مطلب ہے کہ) جب تم میں سے کسی کی سرپرستی میں رہنے والی لڑکی مال اور جمال میں کم ہو تو اس سے (شادی کرنے سے) روگردانی کرنا، چنانچہ ان سے (نکاح کی) رغبت نہ ہونے کی بنا پر ان کو منع کیا گیا کہ وہ جن (یتیم لڑکیوں) کے مال اور جمال میں رغبت رکھتے ہیں ان سے بھی شادی نہ کریں الا یہ کہ (مہر میں) انصاف سے کام لیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7528]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7528 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ سورة النساء آية 3، قَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا، فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا، فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ، قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ: وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي، قَالَ اللَّهُ فِيهَا: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنِ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ، قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے، جو تمھیں اچھی لگیں دو، دو، تین، تین، چار، چار سے نکاح کر لو" کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: میرے بھانجے! یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے (موروثی) مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی (چچا زاد وغیرہ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کر لے اور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرا اسے دے گا، چنانچہ ان (لوگوں) کو اس بات سے روک دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شادی کریں الا یہ کہ وہ (مہر میں) ان سے انصاف کریں اور مہر میں جو سب سے اونچا طریقہ (رائج) ہے اس کی پابندی کریں اور (اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو) انھیں حکم دیا گیا کہ ان (یتیم لڑکیوں) سے سوا جو عورتیں انھیں اچھی لگیں ان سے شادی کر لیں۔ عروہ نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (عورتوں کے حوالے سے مزید) دریافت کیا تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: "اور یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہیے: اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جنھیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کر لو۔" (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جس بات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کتاب میں تلاوت کی جاتی ہے، وہ وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو (دوسری) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرو۔" حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اور بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان: "اور تم ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو۔" (کا مطلب ہے کہ) جب تم میں سے کسی کی سرپرستی میں رہنے والی لڑکی مال اور جمال میں کم ہو تو اس سے (شادی کرنے سے) روگردانی کرنا، چنانچہ ان سے (نکاح کی) رغبت نہ ہونے کی بنا پر ان کو منع کیا گیا کہ وہ جن (یتیم لڑکیوں) کے مال اور جمال میں رغبت رکھتے ہیں ان سے بھی شادی نہ کریں الا یہ کہ (مہر میں) انصاف سے کام لیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7528]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3018 صحیح مسلم
الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِي آخِرِهِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان: "اور تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پاؤ گے" کے بارے میں پوچھا، پھر زہری سے یونس کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس کے آخر میں مزید کہا: "اگر وہ مال اور جمال میں کم ہو تو تمھارے ان سے اعراض کرنے کی بنا پر۔" [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7529]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7529 صحیح مسلم
الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِي آخِرِهِ، مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عروہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان: "اور تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر پاؤ گے" کے بارے میں پوچھا، پھر زہری سے یونس کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس کے آخر میں مزید کہا: "اگر وہ مال اور جمال میں کم ہو تو تمھارے ان سے اعراض کرنے کی بنا پر۔" [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7529]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3018 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ، وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا، وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا، فَلَا يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا، فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، فَقَالَ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، يَقُولُ: مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں عدل نہیں کر پاؤ گے۔" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: یہ (آیت) ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہو وہ اس کا ولی اور وارث ہو۔ اس لڑکی کا مال (میں بھی حق) ہو اس (لڑکی کے مفاد) کے لیے کوئی شخص جھگڑا کرنے والا بھی نہ ہو تو وہ آدمی اس لڑکی کے مال کی بنا پر اس کی کہیں اور شادی نہ کرے اور اسے نقصان پہنچائے۔ اور اس سے برا سلوک کرے تو اس (اللہ) نے فرمایا: "اگر تمھیں اندیشہ ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہ کر پاؤ گے تو (دوسری) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں انھیں سے نکاح کرو۔" وہ (اللہ) فرماتا ہے: (دوسری عورتوں سے نکاح کر لو) جو میں نے تمھارے لیے (نکاح کے طریق پر) حلال کی ہیں اور اس (لڑکی) کو چھوڑ دو جس کو تم نقصان پہنچا رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7530]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7530 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ، وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا، وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا، فَلَا يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا، فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، فَقَالَ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، يَقُولُ: مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں عدل نہیں کر پاؤ گے۔" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: یہ (آیت) ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہو وہ اس کا ولی اور وارث ہو۔ اس لڑکی کا مال (میں بھی حق) ہو اس (لڑکی کے مفاد) کے لیے کوئی شخص جھگڑا کرنے والا بھی نہ ہو تو وہ آدمی اس لڑکی کے مال کی بنا پر اس کی کہیں اور شادی نہ کرے اور اسے نقصان پہنچائے۔ اور اس سے برا سلوک کرے تو اس (اللہ) نے فرمایا: "اگر تمھیں اندیشہ ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہ کر پاؤ گے تو (دوسری) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں انھیں سے نکاح کرو۔" وہ (اللہ) فرماتا ہے: (دوسری عورتوں سے نکاح کر لو) جو میں نے تمھارے لیے (نکاح کے طریق پر) حلال کی ہیں اور اس (لڑکی) کو چھوڑ دو جس کو تم نقصان پہنچا رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7530]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3018 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، فَيَعْضِلُهَا فَلَا يَتَزَوَّجُهَا وَلَا يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم وہ (مہر) نہیں دیتے جو ان کے حق میں فرض ہے اور ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو۔" کے بارے میں روایت بیان کی۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی، اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے (شادی کرنے سے) کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس (شخص) کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھائے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتا ہے اور نہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7531]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7531 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ، فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ، فَيَعْضِلُهَا فَلَا يَتَزَوَّجُهَا وَلَا يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم وہ (مہر) نہیں دیتے جو ان کے حق میں فرض ہے اور ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو۔" کے بارے میں روایت بیان کی۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی، اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے (شادی کرنے سے) کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس (شخص) کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھائے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتا ہے اور نہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7531]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3018 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 الْآيَةَ، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ، فَيَرْغَبُ يَعْنِي أَنْ يَنْكِحَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلًا، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے خبر دی انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان: "اور یہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہیے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔" مکمل آیت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ ایسی یتیم لڑکی (کے بارے میں) ہے جو کسی آدمی کے پاس ہوتی ہے شاید وہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کے مال میں حتیٰ کہ کھجور کے درختوں میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے وہ خود بھی اس سے روگردانی کرتا یعنی اس سے شادی کرنے سے اور کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کر کے اس (شخص) کو اپنے مال میں شریک کرنے کو بھی پسند نہیں کرتا تو وہ اسے ویسے ہی رہنے دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7532]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7532 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ سورة النساء آية 127 الْآيَةَ، قَالَتْ: هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ، فَيَرْغَبُ يَعْنِي أَنْ يَنْكِحَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلًا، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد سے خبر دی انہوں نے اللہ عزوجل کے فرمان: "اور یہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہیے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔" مکمل آیت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: یہ ایسی یتیم لڑکی (کے بارے میں) ہے جو کسی آدمی کے پاس ہوتی ہے شاید وہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کے مال میں حتیٰ کہ کھجور کے درختوں میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے وہ خود بھی اس سے روگردانی کرتا یعنی اس سے شادی کرنے سے اور کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کر کے اس (شخص) کو اپنے مال میں شریک کرنے کو بھی پسند نہیں کرتا تو وہ اسے ویسے ہی رہنے دیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7532]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة