مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ الضُّبَعِيَّ ، قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ، فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي، فَقَالَ: " عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ "، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ، فَقَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحمزہ ضبعی نے کہا: میں نے حج تمتع (کا ارادہ) کیا تو (متعدد) لوگوں نے مجھے اس سے روکا، میں (اسی شش و پنج میں) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسار کیا تو انہوں نے مجھے اس (حج تمتع) کا حکم دیا۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آ کر سو گیا، نیند کے دوران خواب میں میرے پاس ایک شخص آیا۔ اور کہا (تمہارا) عمرہ قبول اور (تمہارا) حج مبرو (ہر عیب سے پاک) ہے۔ انہوں نے کہا میں (دوبارہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو دیکھا تھا۔ کہہ سنایا۔ وہ (خوشی سے) کہہ اٹھے (عربی۔۔۔۔۔۔۔۔۔) یہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے (تمہارا خواب اسی کی بشارت ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3015]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة