أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى سورة النساء آية 3، قَالَتْ: أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ، وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا، وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا، فَلَا يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا، فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا، فَقَالَ: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ سورة النساء آية 3، يَقُولُ: مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد (عروہ) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں عدل نہیں کر پاؤ گے۔" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: یہ (آیت) ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہو وہ اس کا ولی اور وارث ہو۔ اس لڑکی کا مال (میں بھی حق) ہو اس (لڑکی کے مفاد) کے لیے کوئی شخص جھگڑا کرنے والا بھی نہ ہو تو وہ آدمی اس لڑکی کے مال کی بنا پر اس کی کہیں اور شادی نہ کرے اور اسے نقصان پہنچائے۔ اور اس سے برا سلوک کرے تو اس (اللہ) نے فرمایا: "اگر تمھیں اندیشہ ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہ کر پاؤ گے تو (دوسری) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں انھیں سے نکاح کرو۔" وہ (اللہ) فرماتا ہے: (دوسری عورتوں سے نکاح کر لو) جو میں نے تمھارے لیے (نکاح کے طریق پر) حلال کی ہیں اور اس (لڑکی) کو چھوڑ دو جس کو تم نقصان پہنچا رہے ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7530]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة