مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، غُنْدَرٌ ، شُعْبَةُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، أَبِيهِ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، قَالَ: شُعْبَةُ حَدَّثَنَا، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا، يَقُولُ ذَلِكَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ أَحَدُكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا، إِنْ كَانَ يُرَى أَنَّهُ كَذَلِكَ وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا " ,
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر غندر نے کہا: ہمیں شعبہ نے خالد حذاء سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر ہوا تو ایک شخص کہنے لگا: اللہ کے رسول! کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد فلاں فلاں بات میں اس (آدمی) سے افضل نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر افسوس! تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی۔“ آپ بار بار یہ کہتے رہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی نے لامحالہ اپنے بھائی کی تعریف کرنی ہو تو اس طرح کہے: میں سمجھتا ہوں فلاں (اس طرح ہے) اگر وہ واقعی اس کو ایسا سمجھتا ہو (پھر کہے) اور میں اللہ (کے علم) کے مقابلے میں کسی کی خوبی بیان نہیں کرتا (جس سے یہ ثابت ہو کہ میں نعوذ باللہ، اللہ کے علم کو جھٹلا رہا ہوں۔)“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7502]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة