هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ: سَلْ لِي عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَنْ رَجُلٍ يُهِلُّ بِالْحَجِّ فَإِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَيَحِلُّ أَمْ لَا؟، فَإِنْ قَالَ لَكَ: لَا يَحِلُّ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَا يَحِلُّ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ إِلَّا بِالْحَجِّ "، قُلْتُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: بِئْسَ مَا قَالَ، فَتَصَدَّانِي الرَّجُلُ فَسَأَلَنِي فَحَدَّثْتُهُ، فَقَالَ: فَقُلْ لَهُ: فَإِنَّ رَجُلًا كَانَ يُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ ذَلِكَ، وَمَا شَأْنُ أَسْمَاءَ وَالزُّبَيْرِ قَدْ فَعَلَا ذَلِكَ، قَالَ فَجِئْتُهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَمَا بَالُهُ لَا يَأْتِينِي بِنَفْسِهِ يَسْأَلُنِي أَظُنُّهُ عِرَاقِيًّا، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: فَإِنَّهُ قَدْ كَذَبَ: " قَدْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ "، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ عُمَرُ مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ، فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ مُعَاوِيَةُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ، ثُمَّ لَمْ يَكُنْ غَيْرُهُ، ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ، ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا بِعُمْرَةٍ، وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ أَفَلَا يَسْأَلُونَهُ، وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حِينَ يَضَعُونَ أَقْدَامَهُمْ، أَوَّلَ مِنَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ، وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ، لَا تَبْدَآنِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنَ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ، ثُمَّ لَا تَحِلَّانِ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَقْبَلَتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ بِعُمْرَةٍ قَطُّ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا، وَقَدْ كَذَبَ فِيمَا ذَكَرَ مِنْ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا: میری طرف سے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیجیے جو حج کا تلبیہ پکارتا ہے، جب وہ بیت اللہ کا طواف کر لے تو کیا احرام سے آزاد ہو جائے گا یا نہیں؟ اگر وہ تمہیں جواب دیں کہ وہ آزاد نہیں ہو گا تو ان سے کہنا کہ ایک شخص ہے جو یہ کہتا ہے (محمد بن عبدالرحمان نے) کہا: میں نے عروہ سے اس کی بابت سوال کیا تو انہوں نے کہا: جو شخص حج کا احرام باندھے، وہ حج کیے بغیر احرام سے فارغ نہیں ہو گا۔ میں (محمد بن عبدالرحمان) نے عرض کی کہ ایک شخص ہے جو یہی بات کہتا ہے انہوں نے فرمایا: کتنی بری بات ہے جو اس نے کہی ہے۔ پھر میرا ٹکراؤ (اس عراقی) شخص سے ہوا تو اس نے مجھ سے (اپنے سوال کے متعلق) پوچھا۔ میں نے اسے بتا دیا۔ اس (عراقی) نے کہا: ان (عروہ) سے کہو، بلاشبہ ایک شخص خبر دے رہا تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا حکم کیا تھا (حکم دیا تھا) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کا کیا معاملہ تھا؟ انہوں نے (بھی تو) ایسا کیا تھا۔ (محمد بن عبدالرحمان نے) کہا: میں ان عروہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات سنائی۔ انہوں نے پوچھا: یہ (سائل) کون ہے؟ میں نے عرض کی: میں نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا: اسے کیا ہے؟ وہ خود میرے پاس آ کر مجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟ میرا خیال ہے، وہ کوئی عراقی ہو گا۔ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ (عروہ نے) کہا: بلاشبہ اس نے جھوٹ بولا ہے۔ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج کیا، مکہ آ کر آپ نے جو کام سب سے پہلے کیا، یہ تھا کہ آپ نے وضو فرمایا اور پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر ان کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی حج کیا، انہوں نے بھی، سب سے پہلے جو کیا، یہی تھا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اس کے سوا کوئی کام نہ کیا (نہ بال کٹوائے نہ احرام کھولا)، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا۔ میں نے انہیں دیکھا، انہوں نے بھی سب سے پہلا کام جس سے آغاز کیا، بیت اللہ کا طواف تھا، پھر اس کے علاوہ کوئی کام نہ ہوا۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (نے بھی ایسا ہی کیا) پھر میں نے اپنے والد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی سب سے پہلے جس سے آغاز کیا بیت اللہ کا طواف تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہ تھا، پھر میں نے مہاجرین و انصار (کی جماعت) کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا۔ اس کے بعد (بال کٹوانا احرام کھولنا) کوئی کام نہ ہوا۔ پھر سب سے آخر میں جسے میں نے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہوں نے بھی عمرہ کے ذریعے سے اپنے حج کو فسخ نہیں کیا، اور یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ یہ انہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟ اور نہ گزرے ہوئے لوگوں (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) میں سے کسی نے (یہ کام) کیا۔ وہ (صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین) جب بھی بیت اللہ میں قدم رکھتے تو طواف سے پہلے اور کسی چیز سے ابتداء نہ کرتے تھے (طواف کرنے کے بعد) احرام نہیں کھولتے تھے۔ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو بھی دیکھا، وہ جب بھی مکہ آتیں طواف سے پہلے کسی اور کام سے آغاز نہ کرتیں، اس کا طواف کرتیں، پھر احرام نہ کھولتیں (حتیٰ کہ حج پورا کر لیتیں) میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ، ان کی ہمشیرہ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا)، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فلاں فلاں لوگ کسی وقت عمرہ کے لیے آئے تھے، جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کر لیا (اور عمرہ مکمل ہو گیا) تو (اس کے بعد) انہوں نے احرام کھولا۔ اس شخص نے اس کے بارے میں جس بات کا ذکر کیا ہے، اس میں جھوٹ بولا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3001]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة