بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر دھنسائے جانے کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم فتنے اور علامات قیامت باب: بیت اللہ کے ڈھانے کا ارادہ کرنے والے لشکر دھنسائے جانے کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 2882 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟، قَالَ: يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ "، وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انہوں نے عبداللہ بن قبطیہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حارث بن ابی ربیعہ، عبداللہ بن صفوان اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے متعلق سوال کیا جس کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کا زمانہ تھا۔ (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا، اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموار حصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! جو مجبور ان کے ساتھ (شامل) ہو گا اس کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ اور ابوجعفر نے کہا: یہ مدینہ (کے قریب) کا چٹیل حصہ ہوگا (جہاں ان کو دھنسا دیا جائے گا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7240]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7240 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ: دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ، وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ، فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا؟، قَالَ: يُخْسَفُ بِهِ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ "، وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: هِيَ بَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور انہوں نے عبداللہ بن قبطیہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حارث بن ابی ربیعہ، عبداللہ بن صفوان اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ ہم ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان دونوں نے ان سے اس لشکر کے متعلق سوال کیا جس کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ (کی خلافت) کا زمانہ تھا۔ (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک پناہ لینے والا بیت اللہ میں پناہ لے گا، اس کی طرف ایک لشکر بھیجا جائے گا، جب وہ لوگ زمین کے بنجر ہموار حصے میں ہوں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! جو مجبور ان کے ساتھ (شامل) ہو گا اس کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا، البتہ قیامت کے دن اس کو اس کی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔ اور ابوجعفر نے کہا: یہ مدینہ (کے قریب) کا چٹیل حصہ ہوگا (جہاں ان کو دھنسا دیا جائے گا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7240]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2882 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ
حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا إِنَّمَا، قَالَتْ: بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن رفیع نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور ان کی حدیث میں ہے: (ابن قبطیہ نے) کہا: تو میں ابوجعفر سے ملا، میں نے کہا: انہوں (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) نے تو زمین کا ایک چٹیل میدان کہا تھا۔ تو ابوجعفر نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! وہ مدینہ کا چٹیل حصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7241]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7241 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ
حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَبَا جَعْفَرٍ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا إِنَّمَا، قَالَتْ: بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، فَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: كَلَّا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن رفیع نے ہمیں اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور ان کی حدیث میں ہے: (ابن قبطیہ نے) کہا: تو میں ابوجعفر سے ملا، میں نے کہا: انہوں (ام المؤمنین رضی اللہ عنہا) نے تو زمین کا ایک چٹیل میدان کہا تھا۔ تو ابوجعفر نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! وہ مدینہ کا چٹیل حصہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7241]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2883 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ ، حَفْصَةُ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ، وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ، فَلَا يَبْقَى إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امیہ بن صفوان سے روایت ہے، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن صفوان کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک لشکر (اللہ کے) اس گھر کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اس کا رخ کرے گا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کے درمیان والے حصے کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا، ان میں سے ایک علیحدہ رہ جانے والے شخص کے سوا، جو ان کے بارے میں خبر دے گا اور کوئی (زندہ) باقی نہیں بچے گا۔ تو ایک شخص نے (ان کی بات سن کر) کہا: میں تمھارے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں جھوٹ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7242]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7242 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ ، حَفْصَةُ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ ، سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ صَفْوَانَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي حَفْصَةُ ، أَنَّهَا سَمِعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَؤُمَّنَّ هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ يَغْزُونَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوْسَطِهِمْ، وَيُنَادِي أَوَّلُهُمْ آخِرَهُمْ ثُمَّ يُخْسَفُ بِهِمْ، فَلَا يَبْقَى إِلَّا الشَّرِيدُ الَّذِي يُخْبِرُ عَنْهُمْ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَشْهَدُ عَلَيْكَ أَنَّكَ لَمْ تَكْذِبْ عَلَى حَفْصَةَ، وَأَشْهَدُ عَلَى حَفْصَةَ أَنَّهَا لَمْ تَكْذِبْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امیہ بن صفوان سے روایت ہے، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن صفوان کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک لشکر (اللہ کے) اس گھر کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اس کا رخ کرے گا یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کے درمیان والے حصے کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا، ان میں سے ایک علیحدہ رہ جانے والے شخص کے سوا، جو ان کے بارے میں خبر دے گا اور کوئی (زندہ) باقی نہیں بچے گا۔ تو ایک شخص نے (ان کی بات سن کر) کہا: میں تمھارے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹ نہیں باندھا اور میں (یہ بھی) گواہی دیتا ہوں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں جھوٹ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7242]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2883 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ، وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ، يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، قَالَ يُوسُفُ: وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ، قَالَ زَيْدٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن عمرو نے کہا: ہمیں زید بن ابی انیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی، انہوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی، کہا: مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم اس گھر۔۔۔یعنی کعبہ۔۔۔میں پناہ لے گی، ان کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی ذریعہ ہوگا، نہ عددی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ (لشکر کے) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔ یوسف (بن مالک) نے کہا: ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آ رہے تھے، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا: دیکھو، اللہ کی قسم! یہ وہ لشکر نہیں ہے۔ زید (بن ابی انیسہ) نے کہا: اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے، انہوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے، انہوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے، یوسف بن مالک کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7243 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَيَعُوذُ بِهَذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَنَعَةٌ، وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ، يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ "، قَالَ يُوسُفُ: وَأَهْلُ الشَّأْمِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُونَ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِهَذَا الْجَيْشِ، قَالَ زَيْدٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْجَيْشَ الَّذِي ذَكَرَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن عمرو نے کہا: ہمیں زید بن ابی انیسہ نے عبدالملک عامری سے خبر دی، انہوں نے یوسف بن مالک سے روایت کی، کہا: مجھے عبداللہ بن صفوان نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک قوم اس گھر۔۔۔یعنی کعبہ۔۔۔میں پناہ لے گی، ان کے پاس نہ اپنا دفاع کرنے کے لیے کوئی ذریعہ ہوگا، نہ عددی قوت ہوگی اور نہ سامان جنگ ہی ہوگا، ان کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ (لشکر کے) لوگ زمین کے ایک چٹیل حصے میں ہوں گے تو ان کو (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔ یوسف (بن مالک) نے کہا: ان دونوں اہل شام مکہ کی طرف بڑھے آ رہے تھے، تو عبداللہ بن صفوان نے کہا: دیکھو، اللہ کی قسم! یہ وہ لشکر نہیں ہے۔ زید (بن ابی انیسہ) نے کہا: اور مجھے عبدالملک عامری نے عبدالرحمان بن سابط سے، انہوں نے حارث بن ابی ربیعہ سے، انہوں نے ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے، یوسف بن مالک کی حدیث کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے اس میں اس لشکر کی بات نہیں کی جس کا عبداللہ بن صفوان نے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2884 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَبَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ؟، فَقَالَ: " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ، قَالَ: " نَعَمْ، فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ، وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نیند کے دوران (اضطراب کے عالم) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی، تو ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلے آپ نہیں کیا کرتے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ عجیب بات ہے کہ (آخری زمانے میں) میری امت میں سے کچھ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف (کارروائی کرنے کے لیے) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! راستہ تو ہر طرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور (قیامت کے روز) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے، اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7244 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: عَبَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ شَيْئًا فِي مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ؟، فَقَالَ: " الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ "، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ، قَالَ: " نَعَمْ، فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ، وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا، وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نیند کے دوران (اضطراب کے عالم) میں اپنے ہاتھ کو حرکت دی، تو ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے نیند میں کچھ ایسا کیا جو پہلے آپ نہیں کیا کرتے تھے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ عجیب بات ہے کہ (آخری زمانے میں) میری امت میں سے کچھ لوگ بیت اللہ کی پناہ لینے والے قریش کے ایک آدمی کے خلاف (کارروائی کرنے کے لیے) بیت اللہ کا رخ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ چٹیل میدان حصے میں ہوں گے تو انھیں (زمین میں) دھنسا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کی: اللہ کے رسول! راستہ تو ہر طرح کے لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا: ہاں، ان میں سے کوئی اپنی مہم سے آگاہ ہوگا، کوئی مجبور اور کوئی مسافر ہوگا۔ وہ سب اکھٹے ہلاک ہوں گے اور (قیامت کے روز) واپسی کے مختلف راستوں پر نکلیں گے، اللہ انھیں ان کی نیتوں کے مطابق اٹھائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة