بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2866 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے (اس کا ٹھکانا اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے) کہا جاتا ہے: تمھارا ٹھکانا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس (ٹھکانے) تک لے جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7211]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7211 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے (اس کا ٹھکانا اسے دکھایا جاتا ہے اور اس سے) کہا جاتا ہے: تمھارا ٹھکانا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس (ٹھکانے) تک لے جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7211]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2866 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو جنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہو تو دوزخ (اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے) کہا: پھر کہا جاتا ہے: یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھا کر لے جایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7212]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7212 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَالْجَنَّةُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَالنَّارُ، قَالَ: ثُمَّ يُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ الَّذِي تُبْعَثُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو جنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہو تو دوزخ (اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے) کہا: پھر کہا جاتا ہے: یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھا کر لے جایا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7212]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2867 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنِ عُلَيَّةَ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ، فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: كَذَا كَانَ، يَقُولُ: الْجُرَيْرِيُّ، فَقَالَ: " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ؟، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (ابونضرہ نے) کہا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روبرو حاضر ہو کر نہیں سنی، بلکہ مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا (دیکھا تو) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں (ابن علیہ نے) کہا: جریری اسی طرح کہا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں، آپ نے فرمایا: یہ لوگ کب مرے تھے؟ اس نے کہا: شرک (کے عالم) میں مرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (اپنے مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب (کی آوازوں) کو میں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنا دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا: آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب النار﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب القبر﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (تمام) فتنوں سے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من الفتن ما ظهر منها وما بطن﴾ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من فتنة الدجال﴾ ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7213]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7213 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنِ عُلَيَّةَ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ، فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: كَذَا كَانَ، يَقُولُ: الْجُرَيْرِيُّ، فَقَالَ: " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ؟، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (ابونضرہ نے) کہا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روبرو حاضر ہو کر نہیں سنی، بلکہ مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا (دیکھا تو) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں (ابن علیہ نے) کہا: جریری اسی طرح کہا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں، آپ نے فرمایا: یہ لوگ کب مرے تھے؟ اس نے کہا: شرک (کے عالم) میں مرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (اپنے مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب (کی آوازوں) کو میں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنا دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا: آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب النار﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب القبر﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (تمام) فتنوں سے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من الفتن ما ظهر منها وما بطن﴾ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من فتنة الدجال﴾ ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7213]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2868 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر (کی آوازیں) سنوائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7214]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7214 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر (کی آوازیں) سنوائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7214]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2869 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى الْقَطَّانِ ، شُعْبَةُ ، عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَبِيهِ ، الْبَرَاءِ ، أَبِي أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا: یہود ہیں انھیں قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7215]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7215 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى الْقَطَّانِ ، شُعْبَةُ ، عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، أَبِيهِ ، الْبَرَاءِ ، أَبِي أَيُّوبَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: " يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت براء رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا: یہود ہیں انھیں قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7215]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2870 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، قَالَ: يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، قَالَ: فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا "، قَالَ قَتَادَةُ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان بن عبدالرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ (بندہ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تم اس آدمی کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک مومن ہے تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ فرمایا: تو اس سے کہا جائے گا: تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا۔ قتادہ نے کہا: اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کر دی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں تروتازہ نعمتیں بھر دی جاتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7216]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7216 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَتَادَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، قَالَ: يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟، قَالَ: فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا "، قَالَ قَتَادَةُ: وَذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا، وَيُمْلَأُ عَلَيْهِ خَضِرًا إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شیبان بن عبدالرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی، کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو وہ (بندہ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تم اس آدمی کے متعلق (دنیا میں) کیا کہا کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک مومن ہے تو وہ کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ فرمایا: تو اس سے کہا جائے گا: تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو، اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا۔ قتادہ نے کہا: اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کر دی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں تروتازہ نعمتیں بھر دی جاتی ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7216]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2870 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7217]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7217 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ، إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا انْصَرَفُوا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن زریع نے کہا: ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7217]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2870 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب بن عطاء نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں۔ اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7218]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7218 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالوہاب بن عطاء نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں۔ اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7218]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2871 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ، فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول (کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت) کے ذریعے سے (حق پر) ثابت قدم رکھتا ہے۔ فرمایا: یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس (مرنے والے) سے کہا جاتا ہے: تمھارا رب کون ہے؟ وہ (مومن) کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں، یہی قول عزوجل ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) (سے مراد) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7219]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7219 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ، فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول (کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت) کے ذریعے سے (حق پر) ثابت قدم رکھتا ہے۔ فرمایا: یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس (مرنے والے) سے کہا جاتا ہے: تمھارا رب کون ہے؟ وہ (مومن) کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں، یہی قول عزوجل ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) (سے مراد) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7219]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2871 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، أَبِيهِ ، خَيْثَمَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خیثمہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے بارے میں) روایت کی: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ کہا: یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7220]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7220 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانَ ، أَبِيهِ ، خَيْثَمَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنُونَ ابْنَ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ " يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خیثمہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے بارے میں) روایت کی: ﴿يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ (إبراهيم: 27) اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ کہا: یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7220]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة