بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 7213 — باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔
کتب صحیح مسلم جنت اس کی نعمتیں اور اہل جنت باب: مردے کو اس کا ٹھکانہ بتلائے جانے اور قبر کے عذاب کا بیان۔ حدیث 7213
حدیث نمبر: 7213 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنِ عُلَيَّةَ ، سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَلَمْ أَشْهَدْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ، فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرٌ سِتَّةٌ أَوْ خَمْسَةٌ أَوْ أَرْبَعَةٌ، قَالَ: كَذَا كَانَ، يَقُولُ: الْجُرَيْرِيُّ، فَقَالَ: " مَنْ يَعْرِفُ أَصْحَابَ هَذِهِ الْأَقْبُرِ؟ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ؟، قَالَ: مَاتُوا فِي الْإِشْرَاكِ؟، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، قَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ "، قَالُوا: نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے کہا: ہمیں سعید جریری نے ابونضرہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، (ابونضرہ نے) کہا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روبرو حاضر ہو کر نہیں سنی، بلکہ مجھے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو نجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا (دیکھا تو) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں (ابن علیہ نے) کہا: جریری اسی طرح کہا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں، آپ نے فرمایا: یہ لوگ کب مرے تھے؟ اس نے کہا: شرک (کے عالم) میں مرے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم (اپنے مردوں کو) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب (کی آوازوں) کو میں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنا دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا: آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب النار﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من عذاب القبر﴾ ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (تمام) فتنوں سے جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من الفتن ما ظهر منها وما بطن﴾ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ سب نے کہا: ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ﴿اللہم أعوذ بك من فتنة الدجال﴾ ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7213]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (7212) باب پر واپس اگلی حدیث (7214) →