بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 2453 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَنَاوَلَتْهُ إِنَاءً فِيهِ شَرَابٌ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا، أَوْ لَمْ يُرِدْهُ، فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی آپ کے ساتھ گیا، انہوں نے آپ کے ہاتھ میں ایک برتن دیا جس میں مشروب تھا۔ کہا: تو مجھے معلوم انہوں نے اچانک روزے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (وہ مشروب) پکڑا دیا تھا یا آپ اسے پینا نہیں چاہتے تھے، (آپ نے پینے میں تردد فرمایا) تو وہ آپ کے سامنے زور زور سے بولنے اور غصے کا اظہار کرنے لگیں (جس طرح ایک ماں کرتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6317]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6317 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَنَاوَلَتْهُ إِنَاءً فِيهِ شَرَابٌ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَصَادَفَتْهُ صَائِمًا، أَوْ لَمْ يُرِدْهُ، فَجَعَلَتْ تَصْخَبُ عَلَيْهِ وَتَذَمَّرُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، میں بھی آپ کے ساتھ گیا، انہوں نے آپ کے ہاتھ میں ایک برتن دیا جس میں مشروب تھا۔ کہا: تو مجھے معلوم انہوں نے اچانک روزے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (وہ مشروب) پکڑا دیا تھا یا آپ اسے پینا نہیں چاہتے تھے، (آپ نے پینے میں تردد فرمایا) تو وہ آپ کے سامنے زور زور سے بولنے اور غصے کا اظہار کرنے لگیں (جس طرح ایک ماں کرتی ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6317]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2454 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لیے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے بہتر ہے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6318]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6318 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ، نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُورُهَا، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالَا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمارے ساتھ ام ایمن کی ملاقات کے لیے چلو ہم اس سے ملیں گے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے ملنے کو جایا کرتے تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ رونے لگیں۔ دونوں ساتھیوں نے کہا کہ تم کیوں روتی ہو؟ اللہ جل جلالہ کے پاس اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے جو سامان ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے بہتر ہے۔ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں اس لیے نہیں روتی کہ یہ بات نہیں جانتی بلکہ اس وجہ سے روتی ہوں کہ اب آسمان سے وحی کا آنا بند ہو گیا۔ ام ایمن کے اس کہنے سے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی رونا آیا پس وہ بھی ان کے ساتھ رونے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6318]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة