عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ، وَقَالَ: " نَاتِئُ الْجَبْهَةِ "، وَلَمْ يَقُلْ: " نَاشِزُ "، وَزَادَ: فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: " لَا "، قَالَ: ثُمَّ أَدْبَرَ، فَقَامَ إِلَيْهِ خَالِدٌ سَيْفُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ، قَالَ: " لَا "، فَقَالَ: " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ لَيِّنًا رَطْبًا "، وَقَالَ: قَالَ عُمَارَةُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے عمارہ بن قعقاع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے علقمہ بن علاثہ کا ذکر کیا اور عامر بن طفیل کا ذکر نہیں کیا۔ نیز ناتی الجبہۃ (نکلی ہوئی پیشانی والا) کہا اور (عبدالواحد کی طرح ناشز (ابھری ہوئی پیشانی والا) نہیں کہا اور ان الفاظ کا اضافہ کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ کہا: پھر وہ پیٹھ پھیر کر چل پڑا تو خالد سیف اللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر فرمایا: ”حقیقت یہ ہے کہ عنقریب اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ تعالیٰ کی کتاب نرمی اور تراوٹ سے پڑھیں گے۔“ (جریر نے) کہا: عمارہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو اسی طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2453]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة