ابْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ " بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: زَيْدُ الْخَيْرِ، وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ أَوْ عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ "، وَقَالَ: " نَاشِزُ الْجَبْهَةِ " كَرِوَايَةِ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَقَالَ: " إِنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمٌ " وَلَمْ يَذْكُرْ: " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمارہ بن قعقاع کے ایک دوسرے شاگرد ابن فضیل نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی اور کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خام سونا) چار افراد: زید الخیر، اقرع بن حابس، عینیہ بن حصین اور علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل میں (تقسیم کیا۔) اور عبدالواحد کی روایت کی طرح ”ابھری ہوئی پیشانی والا“ کہا اور انہوں نے ”اس کی اصل سے (جس سے اس کا تعلق ہے) ایک قوم نکلے گی“ کے الفاظ بیان کیے اور ”لئن أدركت لأقتلنهم قتل ثمود“ (اگر میں نے ان کو پا لیا تو ان کو اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2454]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة