بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2452 — باب: خوارج اور ان کی صفات کا ذکر۔
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: خوارج اور ان کی صفات کا ذکر۔ حدیث 2452
حدیث نمبر: 2452 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: بَعَثَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْيَمَنِ بِذَهَبَةٍ فِي أَدِيمٍ مَقْرُوظٍ، لَمْ تُحَصَّلْ مِنْ تُرَابِهَا، قَالَ: فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: بَيْنَ عُيَيْنَةَ بْنِ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ، وَزَيْدِ الْخَيْلِ، وَالرَّابِعُ إِمَّا عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ وَإِمَّا عَامِرُ بْنُ الطُّفَيْلِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: كُنَّا نَحْنُ أَحَقَّ بِهَذَا مِنْ هَؤُلَاءِ، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَا تَأْمَنُونِي وَأَنَا أَمِينُ مَنْ فِي السَّمَاءِ، يَأْتِينِي خَبَرُ السَّمَاءِ صَبَاحًا وَمَسَاءً "، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ نَاشِزُ الْجَبْهَةِ كَثُّ اللِّحْيَةِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ مُشَمَّرُ الْإِزَارِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ، فَقَالَ: " وَيْلَكَ أَوَلَسْتُ أَحَقَّ أَهْلِ الْأَرْضِ أَنْ يَتَّقِيَ اللَّهَ "، قَالَ: ثُمَّ وَلَّى الرَّجُلُ، فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ؟، فَقَالَ: " لَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ يُصَلِّي "، قَالَ خَالِدٌ: وَكَمْ مِنْ مُصَلٍّ يَقُولُ بِلِسَانِهِ مَا لَيْسَ فِي قَلْبِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أُومَرْ أَنْ أَنْقُبَ عَنْ قُلُوبِ النَّاسِ، وَلَا أَشُقَّ بُطُونَهُمْ "، قَالَ: ثُمَّ نَظَرَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُقَفٍّ، فَقَالَ: " إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا، قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ رَطْبًا، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ، كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "، قَالَ: أَظُنُّهُ قَالَ: " لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ ثَمُودَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالواحد نے عمارہ بن قعقاع سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن ابی نعم نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں رنگے ہوئے (دباغت شدہ) چمڑے میں (خام) سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا جسے مٹی سے الگ نہیں کیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چار افراد: عینیہ بن حصین، اقرع بن حابس، زید الخیل اور چوتھے فرد علقمہ بن علاثہ یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ کے درمیان تقسیم کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ایک آدمی نے کہا: ہم اس (عطیے) کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ حق دار تھے۔ کہا: یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ حالانکہ میں اس کا امین ہوں جو آسمان میں ہے، میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبر آتی ہے۔ (ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: گھنی داڑھی، ابھرے ہوئے رخساروں، دھنسی ہوئی آنکھوں، نکلی ہوئی پیشانی، منڈھے ہوئے سر والا اور پنڈلی تک اٹھے تہبند والا ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ سے ڈریے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر افسوس، کیا میں تمام اہل زمین سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے کا حقدار نہیں ہوں! پھر وہ آدمی پیٹھ پھیر کر چل دیا۔ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہو۔ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: کتنے ہی نمازی ہیں جو زبان سے (وہ بات) کہتے ہیں (کلمہ پڑھتے ہیں) جو ان کے دلوں میں نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ لوگوں کے دلوں میں سوراخ کروں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ پھر جب وہ پشت پھیر کر جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: یہ حقیقت ہے کہ اس کی اصل سے ایسے لوگ نکلیں گے جو اللہ کی کتاب کو بڑی تراوٹ سے پڑھیں گے (لیکن) وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گی، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ بنائے جانے والے شکار سے نکلتا ہے۔ (ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے) کہا: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں نے ان کو پا لیا تو انہیں اس طرح قتل کروں گا جس طرح ثمود قتل ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2452]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2451) باب پر واپس اگلی حدیث (2453) →