بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے فضائل و مناقب باب: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2389 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ، وَيُثْنُونَ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُكَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَوْ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن مبارک نے عمر بن سعید بن ابی حسین سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا، جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کے جسد خاکی) کو چارپائی پر رکھا گیا تو (جنازہ) اٹھانے سے پہلے لوگوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا۔ وہ دعائیں کر رہے تھے، تعریف کر رہے تھے، دعائے رحمت کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا تو مجھے اچانک کسی ایسے شخص نے چونکا دیا جس نے پیچھے سے (آ کر) میرا کندھا تھاما۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور کہا: آپ نے کوئی ایسا آدمی پیچھے نہ چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر اس بات میں مجھے محبوب ہو کہ میں اللہ سے اس کے جیسے عملوں کے ساتھ ملوں۔ اللہ کی قسم! مجھے ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کرتا تھا، آپ فرمایا کرتے تھے: میں، ابوبکر اور عمر آئے۔ میں، ابوبکر اور عمر اندر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔ مجھے امید تھی بلکہ مجھے ہمیشہ سے یقین رہا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6187]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6187 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَلِيٌّ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " وُضِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى سَرِيرِهِ، فَتَكَنَّفَهُ النَّاسُ يَدْعُونَ، وَيُثْنُونَ، وَيُصَلُّونَ عَلَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَأَنَا فِيهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَتَرَحَّمَ عَلَى عُمَرَ، وَقَالَ: مَا خَلَّفْتَ أَحَدًا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَلْقَى اللَّهَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ مِنْكَ، وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَ صَاحِبَيْكَ، وَذَاكَ أَنِّي كُنْتُ أُكَثِّرُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: جِئْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَدَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَوْ لَأَظُنُّ أَنْ يَجْعَلَكَ اللَّهُ مَعَهُمَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن مبارک نے عمر بن سعید بن ابی حسین سے، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کرتے ہوئے سنا، جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (کے جسد خاکی) کو چارپائی پر رکھا گیا تو (جنازہ) اٹھانے سے پہلے لوگوں نے چاروں طرف سے ان کو گھیر لیا۔ وہ دعائیں کر رہے تھے، تعریف کر رہے تھے، دعائے رحمت کر رہے تھے۔ میں بھی ان میں شامل تھا تو مجھے اچانک کسی ایسے شخص نے چونکا دیا جس نے پیچھے سے (آ کر) میرا کندھا تھاما۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے رحمت کی دعا کی اور کہا: آپ نے کوئی ایسا آدمی پیچھے نہ چھوڑا جو آپ سے بڑھ کر اس بات میں مجھے محبوب ہو کہ میں اللہ سے اس کے جیسے عملوں کے ساتھ ملوں۔ اللہ کی قسم! مجھے ہمیشہ سے یہ یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ میں اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کرتا تھا، آپ فرمایا کرتے تھے: میں، ابوبکر اور عمر آئے۔ میں، ابوبکر اور عمر اندر گئے۔ میں، ابوبکر اور عمر باہر نکلے۔ مجھے امید تھی بلکہ مجھے ہمیشہ سے یقین رہا کہ اللہ آپ کو ان دونوں کے ساتھ رکھے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6187]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2389 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے عمر بن سعید سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6188]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6188 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے عمر بن سعید سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6188]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2390 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد واللفظ لهم، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، قَالُوا: مَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الدِّينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوامامہ بن سہل نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا: میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے قمیص پہنی ہوئی ہیں، کسی کی قمیص چھاتی تک پہنچتی ہے، کسی کی اس سے نیچے تک پہنچتی ہے اور عمر بن خطاب گزرے تو ان پر جو قمیص ہے وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دین۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6189]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6189 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وعبد بن حميد واللفظ لهم، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ، وَمَرَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ، قَالُوا: مَاذَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الدِّينَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوامامہ بن سہل نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا: میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے قمیص پہنی ہوئی ہیں، کسی کی قمیص چھاتی تک پہنچتی ہے، کسی کی اس سے نیچے تک پہنچتی ہے اور عمر بن خطاب گزرے تو ان پر جو قمیص ہے وہ اسے گھسیٹ رہے ہیں۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دین۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6189]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2391 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنَ شِهَابٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْعِلْمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے کہا: ابن شہاب نے انہیں بتایا، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میرے پاس لایا گیا۔ اس میں دودھ تھا۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ (حاضرین نے) کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا: علم۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6190]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6190 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنَ شِهَابٍ ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، إِذْ رَأَيْتُ قَدَحًا أُتِيتُ بِهِ فِيهِ لَبَنٌ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَجْرِي فِي أَظْفَارِي، ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: الْعِلْمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے کہا: ابن شہاب نے انہیں بتایا، انہوں نے حمزہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے روایت کی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے ایک پیالہ دیکھا جو میرے پاس لایا گیا۔ اس میں دودھ تھا۔ میں نے اس میں سے پیا یہاں تک کہ مجھے محسوس ہوا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے۔ پھر اپنا بچا ہوا دودھ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔ (حاضرین نے) کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر فرمائی؟ آپ نے فرمایا: علم۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6190]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2391 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلاهما، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6191]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6191 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ . ح وحَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلاهما، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6191]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2392 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو ایک کنویں پر دیکھا، اس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس میں جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ ان کی مغفرت کرے! ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا، چنانچہ میں نے لوگوں میں کوئی ایسا عبقری (غیر معمولی صلاحیت کا مالک) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکالے حتی کہ لوگ اونٹوں کو (سیراب کر کے گھاٹ سے باہر) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6192]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6192 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو ایک کنویں پر دیکھا، اس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس میں جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ ان کی مغفرت کرے! ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا، چنانچہ میں نے لوگوں میں کوئی ایسا عبقری (غیر معمولی صلاحیت کا مالک) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکالے حتی کہ لوگ اونٹوں کو (سیراب کر کے گھاٹ سے باہر) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6192]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2392 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6193]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6193 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، بِإِسْنَادِ يُونُسَ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے یونس کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6193]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2392 صحیح مسلم
الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، الْأَعْرَجُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ الْأَعْرَجُ ، وَغَيْرُهُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، يَنْزِعُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے کہا: اعرج وغیرہ نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا۔ زہری کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6194]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6194 صحیح مسلم
الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، الْأَعْرَجُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: قَالَ الْأَعْرَجُ ، وَغَيْرُهُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، يَنْزِعُ بِنَحْوِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے کہا: اعرج وغیرہ نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ابن ابی قحافہ کو ڈول کھینچتے دیکھا۔ زہری کی حدیث کی طرح۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6194]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2392 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُرِيتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ، فَجَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَوِّحَنِي، فَنَزَعَ دَلْوَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَجَاءَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ، فَلَمْ أَرَ نَزْعَ رَجُلٍ قَطُّ أَقْوَى مِنْهُ، حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ مَلْآنُ يَتَفَجَّرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا تو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے مجھے آرام پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، انہوں نے دو ڈول پانی نکالا، ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے! پھر ابن خطاب رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ان سے ڈول لے لیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگ (سیراب ہو کر) چلے گئے اور حوض پوری طرح بھرا ہوا تھا، (اس میں سے) پانی امڈ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6195]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6195 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا يُونُسَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، أُرِيتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ، فَجَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرَوِّحَنِي، فَنَزَعَ دَلْوَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، فَجَاءَ ابْنُ الْخَطَّابِ فَأَخَذَ مِنْهُ، فَلَمْ أَرَ نَزْعَ رَجُلٍ قَطُّ أَقْوَى مِنْهُ، حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ وَالْحَوْضُ مَلْآنُ يَتَفَجَّرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابویونس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں سویا ہوا تھا تو مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں، پھر ابوبکر آئے اور انہوں نے مجھے آرام پہنچانے کے لیے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا، انہوں نے دو ڈول پانی نکالا، ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے! پھر ابن خطاب رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے ان سے ڈول لے لیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتے نہیں دیکھا، یہاں تک کہ لوگ (سیراب ہو کر) چلے گئے اور حوض پوری طرح بھرا ہوا تھا، (اس میں سے) پانی امڈ رہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6195]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2393 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا، أَوْ ذَنُوبَيْنِ، فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ، حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن سالم نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے (خواب میں دیکھا) کہ جیسے میں ایک کنویں پر چرخی والے ڈول سے پانی نکال رہا ہوں، پھر ابوبکر آگئے، انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، انہوں نے کچھ کمزوری سے ڈول نکالے۔ پھر عمر آئے، انہوں نے پانی نکالا تو وہ بہت بڑا ڈول بن گیا، میں نے لوگوں میں کوئی غیر معمولی آدمی بھی ایسا نہیں دیکھا جو ان جیسی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہو یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے (جانوروں کو سیراب کر کے) آرام کرنے کی جگہ پہنچا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6196]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6196 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُرِيتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا، أَوْ ذَنُوبَيْنِ، فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا، وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ، حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن سالم نے سالم بن عبداللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے (خواب میں دیکھا) کہ جیسے میں ایک کنویں پر چرخی والے ڈول سے پانی نکال رہا ہوں، پھر ابوبکر آگئے، انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، انہوں نے کچھ کمزوری سے ڈول نکالے۔ پھر عمر آئے، انہوں نے پانی نکالا تو وہ بہت بڑا ڈول بن گیا، میں نے لوگوں میں کوئی غیر معمولی آدمی بھی ایسا نہیں دیکھا جو ان جیسی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا ہو یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو گئے اور انہوں نے (جانوروں کو سیراب کر کے) آرام کرنے کی جگہ پہنچا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6196]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة