حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ، رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ عَلَيْهَا دَلْوٌ، فَنَزَعْتُ مِنْهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ضَعْفٌ ثُمَّ اسْتَحَالَتْ غَرْبًا، فَأَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَنْزِعُ نَزْعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سعید بن مسیب نے انہیں خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خود کو ایک کنویں پر دیکھا، اس پر ایک ڈول تھا، میں نے اس میں جتنا اللہ نے چاہا پانی نکالا، پھر ابن ابی قحافہ نے اس سے ایک یا دو ڈول نکالے، اللہ ان کی مغفرت کرے! ان کے پانی نکالنے میں کچھ کمزوری تھی، پھر وہ ایک بڑا ڈول بن گیا تو عمر بن خطاب نے اسے پکڑ لیا، چنانچہ میں نے لوگوں میں کوئی ایسا عبقری (غیر معمولی صلاحیت کا مالک) نہیں دیکھا جو عمر بن خطاب کی طرح سے پانی نکالے حتی کہ لوگ اونٹوں کو (سیراب کر کے گھاٹ سے باہر) آرام کرنے کی جگہ پر لے گئے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6192]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة