بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم معاشرتی آداب کا بیان باب: اذن چاہنے کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 2153 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کی قسم! ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انہوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا، انہوں نے کہا: آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟ میں نے کہا: میں آیا تھا، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا، اس لیے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کر کھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں تو انہوں نے کہا: تم ان کے ساتھ جاؤ (اور گواہی دو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5626]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5626 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کی قسم! ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انہوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا، انہوں نے کہا: آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟ میں نے کہا: میں آیا تھا، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا، اس لیے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کر کھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں تو انہوں نے کہا: تم ان کے ساتھ جاؤ (اور گواہی دو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5626]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2153 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ فَشَهِدْتُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے یزید بن خصیفہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے ہمراہ اٹھ کھڑا ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور گواہی دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5627]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5627 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، قالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَى عُمَرَ فَشَهِدْتُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور ابن ابی عمر نے کہا: ہمیں سفیان نے یزید بن خصیفہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے ہمراہ اٹھ کھڑا ہوا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور گواہی دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5627]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2153 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا، حَتَّى وَقَفَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ؟، قَالَ أُبَيٌّ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ، قَالَ: قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ، فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا "، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: فَوَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ بسر بن سعید نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ایک مجلس میں ہم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں آئے اور کھڑے ہو گئے پھر کہنے لگے: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اجازت تین بار مانگی جاتی ہے، اگر تمہیں اجازت مل جائے (تو اندر آجاؤ)، نہیں تو لوٹ جاؤ؟ حضرت ابی نے کہا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے کل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تین بار اجازت مانگی، مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں لوٹ گیا پھر میں آج ان کے پاس آیا تو ان کے پاس حاضر ہو گیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں کل آیا تھا، تین بار سلام کیا تھا، پھر چلا گیا تھا۔ کہنے لگے ہم نے سن لیا تھا، اس وقت ہم کسی کام میں لگے ہوئے تھے تم کیوں نہ اجازت مانگتے رہے یہاں تک کہ تمہیں اجازت مل جاتی۔ میں نے کہا: میں نے اسی طرح اجازت مانگی جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تمہاری پشت اور پیٹھ پر کوڑے ماروں گا پھر تم کوئی ایسا شخص لے آؤ جو تمہارے لیے اس پر گواہی دے۔ حضرت ابی بن کعب کہنے لگے: اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ ہم میں سے صرف وہ کھڑا ہوگا جو عمر میں سب سے چھوٹا ہے (بڑے تو بڑے ہیں یہ حدیث ہم میں سے کم عمر لوگوں نے بھی سنی ہے اور یاد رکھی ہے۔) ابوسعید! اٹھو، (انہوں نے کہا) تو میں اٹھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5628]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5628 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا، حَتَّى وَقَفَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ؟، قَالَ أُبَيٌّ: وَمَا ذَاكَ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ، قَالَ: قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ، فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ، قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا "، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: فَوَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ بسر بن سعید نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ایک مجلس میں ہم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں آئے اور کھڑے ہو گئے پھر کہنے لگے: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم میں سے کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اجازت تین بار مانگی جاتی ہے، اگر تمہیں اجازت مل جائے (تو اندر آجاؤ)، نہیں تو لوٹ جاؤ؟ حضرت ابی نے کہا معاملہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے کل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تین بار اجازت مانگی، مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں لوٹ گیا پھر میں آج ان کے پاس آیا تو ان کے پاس حاضر ہو گیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں کل آیا تھا، تین بار سلام کیا تھا، پھر چلا گیا تھا۔ کہنے لگے ہم نے سن لیا تھا، اس وقت ہم کسی کام میں لگے ہوئے تھے تم کیوں نہ اجازت مانگتے رہے یہاں تک کہ تمہیں اجازت مل جاتی۔ میں نے کہا: میں نے اسی طرح اجازت مانگی جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا۔ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تمہاری پشت اور پیٹھ پر کوڑے ماروں گا پھر تم کوئی ایسا شخص لے آؤ جو تمہارے لیے اس پر گواہی دے۔ حضرت ابی بن کعب کہنے لگے: اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ ہم میں سے صرف وہ کھڑا ہوگا جو عمر میں سب سے چھوٹا ہے (بڑے تو بڑے ہیں یہ حدیث ہم میں سے کم عمر لوگوں نے بھی سنی ہے اور یاد رکھی ہے۔) ابوسعید! اٹھو، (انہوں نے کہا) تو میں اٹھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح فرماتے ہوئے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5628]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2153 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ "، قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: هَذَا أَبُو سَعِيدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں سعید بن یزید نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایک بار ہے۔ پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دوسری بار ہے۔ پھر انہوں نے تیسری بار اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تیسری بار ہے، پھر وہ لوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اگلے دن) کسی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور انہیں دوبارہ بلا بھیجا۔ پھر (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) ان سے کہا: اگر یہ ایسی بات ہے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سن کر) یاد رکھی ہے تو ٹھیک ہے، اگر نہیں تو میں تمہیں (دوسروں کے لیے نشان) عبرت بنا دوں گا۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تو وہ ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے: تمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے؟ کہا: تو لوگ ہنسنے لگے، کہا: میں نے (لوگوں سے کہا:) تمہارے پاس تمہارا مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ (پھر حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا:) چلیں میں اس سزا میں آپ کا حصہ دار بنوں گا پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: یہ ابوسعید ہیں (یہ میرے گواہ ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5629]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5629 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ "، قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: هَذَا أَبُو سَعِيدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں سعید بن یزید نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایک بار ہے۔ پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دوسری بار ہے۔ پھر انہوں نے تیسری بار اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تیسری بار ہے، پھر وہ لوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اگلے دن) کسی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور انہیں دوبارہ بلا بھیجا۔ پھر (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) ان سے کہا: اگر یہ ایسی بات ہے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سن کر) یاد رکھی ہے تو ٹھیک ہے، اگر نہیں تو میں تمہیں (دوسروں کے لیے نشان) عبرت بنا دوں گا۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تو وہ ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے: تمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے؟ کہا: تو لوگ ہنسنے لگے، کہا: میں نے (لوگوں سے کہا:) تمہارے پاس تمہارا مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ (پھر حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا:) چلیں میں اس سزا میں آپ کا حصہ دار بنوں گا پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: یہ ابوسعید ہیں (یہ میرے گواہ ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5629]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2153 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، شَبَابَةُ ، شُعْبَةُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كلاهما، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَا: سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ابوسلمہ جریری اور سعید بن یزید سے حدیث بیان کی، جریری اور سعید بن یزید دونوں نے ابونضرہ سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے انہیں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جس طرح بشر بن مفضل نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5630]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5630 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، شَبَابَةُ ، شُعْبَةُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ كلاهما، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَا: سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَى حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے ابوسلمہ جریری اور سعید بن یزید سے حدیث بیان کی، جریری اور سعید بن یزید دونوں نے ابونضرہ سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے انہیں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اسی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جس طرح بشر بن مفضل نے ابوسلمہ سے روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5630]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2153 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبَا مُوسَى ، أَبُو سَعِيدٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ، فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، قَالَ: لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے روایت کی کہا: ہمیں عطاء نے عبید بن عمیر سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت طلب کی تو جیسے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشغول سمجھا اور واپس ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو، (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ہوئے تھے، دوسرے دن) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہی (کرنے کا) حکم دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا: تم اس پر گواہی دلاؤ، نہیں تو میں (وہ) کروں گا (جو کروں گا) وہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نکلے انصار کی مجلس میں آئے انہوں نے کہا: اس بات پر تمہارے حق میں اور کوئی نہیں، ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہی گواہی دے گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے) کھڑے ہو کر کہا: ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں) اسی کا حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے اوجھل رہ گیا، بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5631]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5631 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبَا مُوسَى ، أَبُو سَعِيدٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا، فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ، فَقَالَ عُمَرُ: أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ، فَدُعِيَ لَهُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، قَالَ: لَتُقِيمَنَّ عَلَى هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ ، فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، فَقَالَ عُمَرُ: خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے روایت کی کہا: ہمیں عطاء نے عبید بن عمیر سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین مرتبہ اجازت طلب کی تو جیسے انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مشغول سمجھا اور واپس ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہم نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی؟ ان کو اندر آنے کی اجازت دو، (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے ہوئے تھے، دوسرے دن) حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہی (کرنے کا) حکم دیا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا: تم اس پر گواہی دلاؤ، نہیں تو میں (وہ) کروں گا (جو کروں گا) وہ (حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) نکلے انصار کی مجلس میں آئے انہوں نے کہا: اس بات پر تمہارے حق میں اور کوئی نہیں، ہم میں سے جو سب سے چھوٹا ہے وہی گواہی دے گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے) کھڑے ہو کر کہا: ہمیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں) اسی کا حکم دیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ حکم مجھ سے اوجھل رہ گیا، بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5631]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2153 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، النَّضْرُ يَعْنِى بْنُ شُمَيْلٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِى بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرَ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعاصم اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ اور نضر کی حدیث میں انہوں نے (بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5632]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5632 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، أَبُو عَاصِمٍ ، حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، النَّضْرُ يَعْنِى بْنُ شُمَيْلٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ يَعْنِى بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرَ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعاصم اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ اور نضر کی حدیث میں انہوں نے (بازاروں میں ہونے والے سودوں نے مجھے اس سے مشغول کر دیا۔) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5632]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2154 صحیح مسلم
حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قال: جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَذَا أَبُو مُوسَى، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ هَذَا الْأَشْعَرِيُّ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: رُدُّوا عَلَيَّ رُدُّوا عَلَيَّ فَجَاءَ، فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى: مَا رَدَّكَ كُنَّا فِي شُغْلٍ، قَالَ سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ "، قَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلَّا فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ، فَذَهَبَ أَبُو مُوسَى، قَالَ عُمَرُ: إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً، فَلَمْ تَجِدُوهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ، قَالَ يَا أَبَا مُوسَى: مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ: عَدْلٌ، قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ: مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَلَا تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
افضل بن موسیٰ نے کہا: ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: السلام علیکم، عبداللہ بن قیس (حاضر ہوا) ہے، انہوں نے آنے کی اجازت نہ دی۔ انہوں نے پھر کہا: السلام علیکم، یہ ابوموسیٰ ہے، السلام علیکم، یہ اشعری ہے، اس کے بعد چلے گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو میرے پاس واپس لاؤ۔ میرے پاس واپس لاؤ۔ وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوموسیٰ! آپ کو کس بات نے لوٹا دیا؟ ہم کام میں مشغول تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر تم کو اجازت دے دی جائے (تو آجاؤ) ورنہ لوٹ جاؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو آپ اس پر گواہ لائیں گے یا پھر میں یہ کروں گا تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ چلے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ابوموسیٰ کو گواہ مل گیا تو شام کو وہ تمہیں منبر کے پاس ملیں گے اور اگر ان کو گواہ نہیں ملا تو وہ تمہیں نہیں ملیں گے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کو آئے تو انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو موجود پایا، انہوں نے کہا ابوموسیٰ! کیا کہتے ہیں؟ آپ کو گواہ مل گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! ابی بن کعب ہیں انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) کہا: وہ قابل اعتماد گواہ ہیں۔ (پھر ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر) کہا: ابوطفیل! یہ (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے (حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کہا: ابن خطاب! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ یہی فرما رہے تھے۔ لہٰذا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر عذاب نہ بنیں۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! میں نے ایک چیز سنی اور چاہا کہ اس کا ثبوت حاصل کروں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5633]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5633 صحیح مسلم
حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قال: جَاءَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، هَذَا أَبُو مُوسَى، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ هَذَا الْأَشْعَرِيُّ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: رُدُّوا عَلَيَّ رُدُّوا عَلَيَّ فَجَاءَ، فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَى: مَا رَدَّكَ كُنَّا فِي شُغْلٍ، قَالَ سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ "، قَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلَّا فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ، فَذَهَبَ أَبُو مُوسَى، قَالَ عُمَرُ: إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً، فَلَمْ تَجِدُوهُ فَلَمَّا أَنْ جَاءَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ، قَالَ يَا أَبَا مُوسَى: مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ؟، قَالَ: نَعَمْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، قَالَ: عَدْلٌ، قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ: مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، فَلَا تَكُونَنَّ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
افضل بن موسیٰ نے کہا: ہمیں طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: السلام علیکم، عبداللہ بن قیس (حاضر ہوا) ہے، انہوں نے آنے کی اجازت نہ دی۔ انہوں نے پھر کہا: السلام علیکم، یہ ابوموسیٰ ہے، السلام علیکم، یہ اشعری ہے، اس کے بعد چلے گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو میرے پاس واپس لاؤ۔ میرے پاس واپس لاؤ۔ وہ آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوموسیٰ! آپ کو کس بات نے لوٹا دیا؟ ہم کام میں مشغول تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: اجازت تین بار طلب کی جائے، اگر تم کو اجازت دے دی جائے (تو آجاؤ) ورنہ لوٹ جاؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا تو آپ اس پر گواہ لائیں گے یا پھر میں یہ کروں گا تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ چلے گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ابوموسیٰ کو گواہ مل گیا تو شام کو وہ تمہیں منبر کے پاس ملیں گے اور اگر ان کو گواہ نہیں ملا تو وہ تمہیں نہیں ملیں گے، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کو آئے تو انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو موجود پایا، انہوں نے کہا ابوموسیٰ! کیا کہتے ہیں؟ آپ کو گواہ مل گیا؟ انہوں نے کہا: ہاں! ابی بن کعب ہیں انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) کہا: وہ قابل اعتماد گواہ ہیں۔ (پھر ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر) کہا: ابوطفیل! یہ (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے (حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ) کہا: ابن خطاب! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ یہی فرما رہے تھے۔ لہٰذا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر عذاب نہ بنیں۔ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! میں نے ایک چیز سنی اور چاہا کہ اس کا ثبوت حاصل کروں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5633]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2154 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَيبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَلَا تَكُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن ہاشم نے طلحہ بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: تو انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ابومنذر! (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابن خطاب! تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے عذاب نہ بنیں اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: سبحان اللہ اور اس کے بعد کا حصہ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5634]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5634 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَيبِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَلَا تَكُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن ہاشم نے طلحہ بن یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: تو انہوں نے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا: ابومنذر! (ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ابن خطاب! تو آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے عذاب نہ بنیں اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول: سبحان اللہ اور اس کے بعد کا حصہ ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5634]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة