عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كُنْتُ جَالِسًا بِالْمَدِينَةِ فِي مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا أَبُو مُوسَى فَزِعًا أَوْ مَذْعُورًا، قُلْنَا مَا شَأْنُكَ، قَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَرْسَلَ إِلَيَّ أَنْ آتِيَهُ فَأَتَيْتُ بَابَهُ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ فَرَجَعْتُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنَا؟ فَقُلْتُ: إِنِّي أَتَيْتُكَ فَسَلَّمْتُ عَلَى بَابِكَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَرُدُّوا عَلَيَّ، فَرَجَعْتُ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ فَلْيَرْجِعْ "، فَقَالَ عُمَرُ: أَقِمْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا أَوْجَعْتُكَ، فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ: لَا يَقُومُ مَعَهُ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قُلْتُ: أَنَا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ: فَاذْهَبْ بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن محمد بن بکیر ناقد نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: اللہ کی قسم! ہمیں یزید بن خصیفہ نے بسر بن سعید سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: میں مدینہ منورہ میں انصار کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابوموسیٰ ڈرے سہمے ہوئے آئے، ہم نے ان سے پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیجا ہے کہ میں ان کے پاس آؤں، میں ان کے دروازے پر گیا اور تین مرتبہ سلام کیا انہوں نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا تو میں لوٹ آیا، انہوں نے کہا: آپ کو ہمارے پاس آنے سے کس بات نے روکا؟ میں نے کہا: میں آیا تھا، آپ کے دروازے پر کھڑے تین بار سلام کیا، آپ لوگوں نے مجھے جواب نہیں دیا، اس لیے میں لوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص تین بار اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ دی جائے تو وہ لوٹ جائے۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر گواہی پیش کرو ورنہ میں تم کو سزا دوں گا۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کے ساتھ صرف وہ شخص جا کر کھڑا ہوگا جو قوم میں سے سب سے کم عمر ہے، حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا کہ میں سب سے کم عمر ہوں تو انہوں نے کہا: تم ان کے ساتھ جاؤ (اور گواہی دو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5626]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة