نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ ، أَبَا مُوسَى
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى أَتَى بَابَ عُمَرَ، فَاسْتَأْذَنَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ عُمَرُ: ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّكَ عِظَةً، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَأَتَانَا، فَقَالَ: أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ "، قَالَ: فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَاكُمْ أَخُوكُمُ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَكُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيكُكَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ، فَأَتَاهُ، فَقَالَ: هَذَا أَبُو سَعِيدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں سعید بن یزید نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ ایک بار ہے۔ پھر انہوں نے دوبارہ اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ دوسری بار ہے۔ پھر انہوں نے تیسری بار اجازت طلب کی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تیسری بار ہے، پھر وہ لوٹ گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (اگلے دن) کسی کو ان کے پیچھے روانہ کیا اور انہیں دوبارہ بلا بھیجا۔ پھر (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے) ان سے کہا: اگر یہ ایسی بات ہے جو تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سن کر) یاد رکھی ہے تو ٹھیک ہے، اگر نہیں تو میں تمہیں (دوسروں کے لیے نشان) عبرت بنا دوں گا۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: تو وہ ہمارے ہاں آئے اور کہنے لگے: تمہیں علم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اجازت تین بار طلب کی جاتی ہے؟“ کہا: تو لوگ ہنسنے لگے، کہا: میں نے (لوگوں سے کہا:) تمہارے پاس تمہارا مسلمان بھائی ڈرا ہوا آیا ہے اور تم ہنس رہے ہو؟ (پھر حضرت موسیٰ رضی اللہ عنہ سے کہا:) چلیں میں اس سزا میں آپ کا حصہ دار بنوں گا پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: یہ ابوسعید ہیں (یہ میرے گواہ ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْآدَابِ/حدیث: 5629]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة