بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم لباس اور زینت کے احکام باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2104 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا، فَجَاءَتْ تِلْكَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ، وَفِي يَدِهِ عَصًا، فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: " مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ " ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ هَاهُنَا؟ "، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَكَ فَلَمْ تَأْتِ "، فَقَالَ: " مَنَعَنِي الْكَلْبُ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِكَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے، چنانچہ وہ گھڑی آ گئی لیکن جبریل علیہ السلام نہ آئے۔ (اس وقت) آپ کے دست مبارک میں ایک عصا تھی۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے (نیچے) پھینکا اور فرمایا: نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے نہ رسول (خلاف ورزی کرتے ہیں۔) (جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیاء علیہم السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا۔ آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کتا یہاں کب گھسا؟ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے بالکل پتا نہیں چلا۔ آپ نے حکم دیا تو اس (پلے) کو نکال دیا گیا، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے۔ انہوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں تصویر ہو۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5511]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5511 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا، فَجَاءَتْ تِلْكَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ، وَفِي يَدِهِ عَصًا، فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: " مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ " ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ هَاهُنَا؟ "، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَكَ فَلَمْ تَأْتِ "، فَقَالَ: " مَنَعَنِي الْكَلْبُ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِكَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے، چنانچہ وہ گھڑی آ گئی لیکن جبریل علیہ السلام نہ آئے۔ (اس وقت) آپ کے دست مبارک میں ایک عصا تھی۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے (نیچے) پھینکا اور فرمایا: نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے نہ رسول (خلاف ورزی کرتے ہیں۔) (جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیاء علیہم السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا۔ آپ نے فرمایا: عائشہ! یہ کتا یہاں کب گھسا؟ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے بالکل پتا نہیں چلا۔ آپ نے حکم دیا تو اس (پلے) کو نکال دیا گیا، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے۔ انہوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں تصویر ہو۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5511]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2104 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، الْمَخْزُومِيُّ ، وُهَيْبٌ ، أَبِي حَازِمٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابوحازم سے حدیث سنائی کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابوحازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5512]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5512 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، الْمَخْزُومِيُّ ، وُهَيْبٌ ، أَبِي حَازِمٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابوحازم سے حدیث سنائی کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابوحازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5512]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2105 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ السَّبَّاقِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةُ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي "، قَالَ: فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ: " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ؟ "، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فکرمندی کی حالت میں صبح کی۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آج دن (کے آغاز) سے آپ کی حالت معمول کے خلاف دیکھ رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔ کہا: تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا جو ہمارے (ایک بستر کے نیچے بن جانے والے) ایک خیمہ (نما حصے) میں تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکال دیا گیا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا۔ جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (آوارہ یا بے کار) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی (جو رکھوالی نہیں کر سکتا) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے۔ (ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5513]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5513 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ السَّبَّاقِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةُ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي "، قَالَ: فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ: " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ؟ "، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فکرمندی کی حالت میں صبح کی۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آج دن (کے آغاز) سے آپ کی حالت معمول کے خلاف دیکھ رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔ کہا: تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا جو ہمارے (ایک بستر کے نیچے بن جانے والے) ایک خیمہ (نما حصے) میں تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکال دیا گیا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا۔ جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (آوارہ یا بے کار) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی (جو رکھوالی نہیں کر سکتا) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے۔ (ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5513]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2106 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقال الآخران: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5514]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5514 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَبِي طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقال الآخران: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5514]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2106 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَبَا طَلْحَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے، خبر دی انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5515]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5515 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَبَا طَلْحَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے مجھے ابن شہاب سے، خبر دی انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5515]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2106 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَذِكْرِهِ الْأَخْبَارَ فِي الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صراحت کرتے ہوئے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5516]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5516 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَذِكْرِهِ الْأَخْبَارَ فِي الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صراحت کرتے ہوئے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5516]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2106 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، بُكَيْرٍ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي طَلْحَةَ ، لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْد عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ، قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنائی انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن خالد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہو۔ بسر نے کہا: پھر اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو (دیکھا) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر (بنی ہوئی) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے لے پالک عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا حضرت زید نے پہلے دن (جب ملاقات ہوئی تھی) ہمیں تصویر (کی ممانعت) کے بارے میں خبر (حدیث) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا: جب انہوں نے (کپڑے پر بنے ہوئے نقش کے سوا) کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5517]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5517 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، بُكَيْرٍ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَبِي طَلْحَةَ ، لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْد عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ، قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنائی انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن خالد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہو۔ بسر نے کہا: پھر اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو (دیکھا) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر (بنی ہوئی) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے لے پالک عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا حضرت زید نے پہلے دن (جب ملاقات ہوئی تھی) ہمیں تصویر (کی ممانعت) کے بارے میں خبر (حدیث) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا: جب انہوں نے (کپڑے پر بنے ہوئے نقش کے سوا) کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5517]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2106 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبَا طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ، قَالَ، إِنَّهُ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟، قُلْتُ: لَا: قَالَ: بَلَى قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انہیں بکیر بن اشج نے حدیث سنائی، انہیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں حدیث سنائی اور (اس وقت) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولانی تھے۔ (کہا) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔ بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے، ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ہم نے ان کے گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا (حضرت زید بن خالد نے) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی؟ (عبید اللہ نے) کہا: انہوں نے (ساتھ ہی یہ) کہا تھا: (سوائے کپڑے کے نقش کے) کیا آپ نے نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5518]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5518 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ ، بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَبَا طَلْحَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ، قَالَ، إِنَّهُ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟، قُلْتُ: لَا: قَالَ: بَلَى قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انہیں بکیر بن اشج نے حدیث سنائی، انہیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں حدیث سنائی اور (اس وقت) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولانی تھے۔ (کہا) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔ بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے، ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ہم نے ان کے گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا (حضرت زید بن خالد نے) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی؟ (عبید اللہ نے) کہا: انہوں نے (ساتھ ہی یہ) کہا تھا: (سوائے کپڑے کے نقش کے) کیا آپ نے نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5518]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2106 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بنو نجار کے آزاد کردہ غلام ابوحباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے، انہوں نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، نہ (اس میں جہاں) مجسمے ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5519]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5519 صحیح مسلم
إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
بنو نجار کے آزاد کردہ غلام ابوحباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے، انہوں نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، نہ (اس میں جہاں) مجسمے ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5519]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2107 صحیح مسلم
عَائِشَةَ
قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟، فَقَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ "، قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(سعید بن یسار نے) کہا: (یہ حدیث سن کر) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں کسی طرح کی تصویریں ہوں۔) کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات سنی جو انہوں نے بیان کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں (میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے) لیکن میں تمہیں بتاتی ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک موٹا سا کپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنا دیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے (دو ٹکڑے کر دیے اور فرمایا: اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا۔) (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے (بنانے کے لیے دو ٹکڑے) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5520]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5520 صحیح مسلم
عَائِشَةَ
قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟، فَقَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ "، قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(سعید بن یسار نے) کہا: (یہ حدیث سن کر) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں کسی طرح کی تصویریں ہوں۔) کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات سنی جو انہوں نے بیان کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں (میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے) لیکن میں تمہیں بتاتی ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک موٹا سا کپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنا دیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے (دو ٹکڑے کر دیے اور فرمایا: اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا۔) (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے (بنانے کے لیے دو ٹکڑے) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5520]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة